لاہور : الیکٹرک بسوں کا نیامنصوبہ، افتتاح کل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت کی طرف سے مزید چالیس الیکٹرک بسیں صوبائی دارالحکومت لاہور کی سڑکوں پر نظر آئیں گی۔
وزیراعلی پنجاب 3 اکتوبر کو الیکٹرک بسوں کے نئے فلیٹ کا افتتاح کریں گی، تین اکتوبر کو افتتاح کے بعد لاہور میں کل الیکٹرک بسوں کی تعداد 67 ہوجائے گی۔
شہر لاہور میں مزید 40 بسیں شامل کرنے کے بعد روٹ کی ازسر نو تشکیل دی جائے گی، پروجیکٹ کے تحت لاہور کی سڑکوں پر الیکٹرک بسوں کا سفر نیا شروع ہوگا۔
پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے
الیکٹرک بسوں میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، بسوں میں جی پی ایس، وائی فائی، یو ایس بی پورٹس، اور خصوصی افراد کے لیے ریمپ کی سہولت دی گئی۔
مخصوص نشستیں، خواتین کے لیے علیحدہ سیکشن اور ہراسیت سے بچاؤ کے لیے کیمرے بھی نصب کیے گئے،ان بسوں میں روزانہ تقریباً 43000 مسافر ان سے مستفید ہوں گے۔
کرایہ کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل والٹ اور کارڈز کا استعمال کیا جائے گا، ایک ایپ کے ذریعے بس کی ٹریکنگ بھی کی جا سکے گی۔
ویمن گرین شرٹس آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ ٹرافی گھر لانے کیلئے پہلا قدم کل بڑھائیں گی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: الیکٹرک بسوں کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔