ای بائیکس اسکیم کے تحت قرعہ اندازی، 41 ہزار درخواست گزار کامیاب قرار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک؛ وزارت صنعت و پیداوار نے ای بائیکس اسکیم کے تحت قرعہ اندازی کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا۔
ترجمان کے مطابق ای بائیکس رکشہ کیلئے ملک بھر سے 2لاکھ 69ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، قرعہ اندازی کے تحت 41ہزار درخواست گزاروں کو کامیاب قرار دیا گیا۔
حکام کے مطابق 2030 تک پاکستان میں فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی، کم آمدنی والے شہریوں کو الیکٹرک گاڑیوں پر براہِ راست سبسڈی دی جارہی ہے۔
پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے
موٹر سائیکلوں پر 50 ہزار بینکوں سے قرض اور 80 ہزار روپے صارف کو خود دینا ہوں گے جبکہ رکشوں پر سبسڈی 2 لاکھ اور 4 لاکھ خریدار کو دینا ہوں گے۔
وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق ای بیلٹنگ کا پہلا مرحلہ شفاف محفوظ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مکمل کیا گیا، ای بائیکس پر جون تک حکومت 9ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔