ویمنز ورلڈ کپ میں فاطمہ ثناء اور نگار سلطانہ کی دوستی خصوصی توجہ کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025ء میں پاکستان اور بنگلادیش کی کھلاڑیوں کی دوستی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی۔
قومی کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء اور بنگلادیش کی کپتان نگار سلطانہ کے درمیان بہت اچھی دوستی ہے۔
دونوں ٹیموں کی کپتانوں کے درمیان دوستی کا آغاز 2023ء میں فیئر بریک انویٹیشنل سے ہوا۔
نگار سلطانہ نے بتایا ’ہمارے درمیان بہت اچھی دوستی ہے، ہم دونوں جب بھی ملتے ہیں تو بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں اور تفریح کرتے ہیں‘۔
یہ دوستی رواں سال کے آغاز میں ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوران اُبھر کر سامنے آئی جب پاکستان سے ہارنے کے بعد بنگلادیش کی ساری امیدیں ختم ہو گئی تھیں اور نگار سلطانہ بہت افسردہ تھیں اور اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھیں لیکن پھر جب بنگلادیش نے ویسٹ انڈیز کو ہرا کر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرلیا تو اُنہیں یہ بات سب سے پہلے فاطمہ ثناء نے کال کر کے بتائی۔
اتنی اچھی دوستی ہونے کے باوجود بھی دونوں کپتان جانتی ہیں کہ کھیل کے میدان میں دوستی کی ایک حد ہوتی ہے۔
اس حوالے سے نگار سلطانہ نے کہا ’جب میں گراؤنڈ میں ہوتی ہوں تو پھر میں نہیں جانتی کہ فاطمہ ثناء کون ہے اور وہ بھی میری وکٹ لینے کی پوری کوشش کر رہی ہوتی ہے‘۔
اُنہوں نے مزید کہا ’فاطمہ ابھی بہت چھوٹی ہیں اور سیکھ رہی ہیں لیکن مستقبل میں ضرور بہتر کارکردگی دکھائیں گی‘۔
دوسری جانب فاطمہ ثناء نے کہا ’نگار سلطانہ میری اچھی دوست ہیں اور مجھ سے اکثر میری بیٹنگ کے بارے میں پوچھتی ہیں کیونکہ وہ خود بیٹر ہیں اور میں ایک اچھی آل راؤنڈر بننا چاہتی ہوں تو اس لیے وہ مجھے بیٹنگ کے لیے بہت ساری تجاویز دیتی رہتی ہیں‘۔
اُنہوں نے بتایا ’ہم نے ایک دوسرے کے خلاف بہت سارے میچز کھیلنے ہیں لیکن وہ میری اچھی دوست ہیں اور ہمارا کھیل کے میدان سے باہر اچھا تعلق ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نگار سلطانہ فاطمہ ثناء ہیں اور ورلڈ کپ
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔