نیپال: دو سالہ بچی ’نئی دیوی‘ منتخب
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 اکتوبر 2025ء) اریاتارا شاکیہ، جو 2 سال اور 8 ماہ کی ہیں، کو کٹھمنڈو کی ایک گلی میں ان کے گھر سے گود میں اٹھا کر ایک مندر تک لایا گیا۔ انہیں نئی کماری یا ''کنواری دیوی‘‘ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، کیونکہ روایت کے مطابق موجودہ کماری بلوغت کو پہنچنے پر عام انسان بن جاتی ہے۔
کماری کون ہیں؟کماریوں کو نیوار برادری کے شاکیہ قبیلے سے منتخب کیا جاتا ہے جو کٹھمنڈو وادی کے مقامی لوگ ہیں۔
ہندو اور بودھ مت دونوں کے پیروکار اس دیوی کی پرستش کرتے ہیں۔انتخاب کے لیے دو سے چار سال کی بچیوں کو چُنا جاتا ہے جن کی جلد، بال، آنکھیں اور دانت بالکل بے عیب ہوں۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ وہ اندھیرے سے نہ ڈرتی ہوں۔
(جاری ہے)
اریاتارا شاکیہ کو خاندان، دوستوں اور عقیدت مندوں نے کٹھمنڈو کی گلیوں سے جلوس کی صورت میں مندر تک پہنچایا، جو اب کئی برسوں تک ان کا مسکن ہو گا۔
عقیدت مند قطار میں لگ کر اس بچی کے پاؤں اپنے ماتھے سے چھو رہے تھے، جو ہمالیائی ملک میں ہندوؤں کے نزدیک سب سے بڑا احترام سمجھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پھول اور پیسے نذر کیے۔
نئی کماری جمعرات کو ملکی صدر سمیت ہزاروں عقیدت مندوں کو برکت کی دعائیں دیں گی۔
ان کے والد اننت شاکیہ نے کہا، ''وہ کل تک میری بیٹی تھی، لیکن آج وہ ایک دیوی ہے۔
‘‘ بلوغت کے بعد کماریوں کو مشکلاتشاکیہ قبیلے کے وہ گھرانے جن کی بچیاں اہل قرار پاتی ہیں، کماری کے انتخاب کے لیے مسابقت کرتے ہیں، کیونکہ منتخب بچی کا خاندان معاشرے اور اپنے قبیلے میں ایک بلند مقام حاصل کرتا ہے۔
تاہم کماری کی زندگی محدود ہوتی ہے، وہ زیادہ تر وقت مندر میں گزارتی ہیں اور صرف چند تہواروں کے موقع پر باہر آتی ہیں۔
بلوغت کے بعد عام زندگی میں ڈھلنا اور اسکول جانا اکثر ان کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے۔
نیپالی لوک کہانیوں میں یہ بھی مشہور ہے کہ جو مرد کسی سابقہ کماری سے شادی کرتا ہے وہ کم عمر میں مر جاتا ہے، جس کے باعث اکثر کماری بچیاں شادی نہیں کر پاتیں۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جاتا ہے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔