نریندر مودی نے غزہ میں ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کی
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ ہم ٹرمپ کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ غزہ میں انکی امن کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں، ہندوستان ہمیشہ پائیدار اور منصفانہ امن کی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کریگا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو اتوار 5 اکتوبر تک امن معاہدے پر راضی ہونے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر حماس اس ڈیڈ لائن کے اندر متفق نہ ہوئی تو انہیں شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ الٹی میٹم ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جاری کیا تھا۔ اس کے بعد حماس نے کچھ تذبذب اور شرائط کے ساتھ ان کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنی کارروائیاں روکنے کا حکم دیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لئے تیار ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس معاملے پر امریکی صدر کے اقدام کی تعریف کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے نریندر مودی نے لکھا "ہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ غزہ میں ان کی امن کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں، ہندوستان ہمیشہ پائیدار اور منصفانہ امن کی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گا"۔
نریندر مودی نے کہا کہ ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی اور اسرائیلی شہریوں کے لئے طویل المدت اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرتا ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانی نے بھی اس معاملے پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا امریکی صدر کے منصوبے کا خیرمقدم کرتا ہے، حماس بلا تاخیر اپنے ہتھیار ڈال دے، اس کے ساتھ تمام مغویوں کو رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا جنگ کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ قبل ازیں کی خبر کے مطابق ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی کا غزہ میں تنازعہ کو ختم کرنے کے مقصد سے امریکی زیر قیادت امن منصوبے کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا تھا اور دیگر ممالک سے بھی اس اقدام کی حمایت کرنے پر زور دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔