انڈونیشیا : ڈیٹا شیئر نہ کرنے پر ٹک ٹاک کا آپریٹنگ لائسنس عارضی طور پر معطل
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جکارتا (انٹرنیشنل ڈیسک) انڈونیشیا نے ڈیٹا شیئر نہ کرنے پر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا آپریٹنگ لائسنس عارضی طور پر معطل کر دیا ۔ وزارتِ مواصلات اور ڈیجیٹل امور کے مطابق ٹک ٹاک نے اگست میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران لائیو فیچر کا ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار کیا تھا۔ دوسری جانب ٹک ٹاک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک اِن تمام ممالک کے قوانین کا احترام کرتا ہے جہاں وہ کام کر رہا ہے، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ ٹک ٹاک پر انڈونیشیا کے صارفین کی تعداد 10کروڑ سے زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔