پاکستان دشمنی میں بھارتی فوج نے سرحدی علاقے میں بکریوں کو ہلاک و زخمی کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارت کی پاکستان دشمنی نے نہ صرف انسانوں بلکہ معصوم جانوروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ سرحدی علاقے سنورانی (تحصیل ڈاہلی) میں بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی شہریوں کی بکریوں کو ہلاک اور شدید زخمی کرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
واقعہ گزشتہ شام پیش آیا جب بھارتی فورسز نے سرحد عبور کرنے والی بکریوں کو نہ صرف واپس کرنے سے انکار کیا بلکہ ان پر بے رحمی سے تشدد بھی کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں زخمی اور ہلاک بکریوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
متاثرہ چرواہوں کے مطابق بھارتی فوجیوں نے 5 بکریوں کو ہلاک کر دیا جبکہ کم از کم 15 بکریوں کی ٹانگیں تیز دھار آلے سے کاٹ دی گئیں۔ مقامی مویشی مالکان کا کہنا ہے کہ بکریوں نے غلطی سے سرحد عبور کی تھی، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، لیکن اس بار بھارتی اہلکاروں نے حد سے گزر جانے والی بربریت کا مظاہرہ کیا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں معمول کے مطابق بکریوں کو واپس کر دیا جاتا ہے، لیکن اس بار جانوروں پر ظلم کر کے بھارت نے انسانیت سوز رویے کی نئی مثال قائم کی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف انسانی حقوق بلکہ جانوروں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پرعالمی برادری اور حقوق کے علمبردار اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔