فیفا ورلڈکپ 2026 کیلیے منفرد خصوصیات والی آفیشل میچ بال متعارف
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
فیفا نے ورلڈکپ 2026 کے لیے منفرد خصوصیات والی آفیشل میچ بال متعارف کروادی۔
فیفا کی جانب سے آئندہ سال منعقد ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے متعاعف کروائی گئی آفیشل میچ بال جدید ٹیکنالوجی اور تین میزبان ممالک (امریکا، میکسیکو اور کینیڈا ) کی نمائندگی کرنے والے ڈیزائن پر مبنی ہے۔
جرمن کمپنی ایڈیڈاس کی ڈیزائن کردہ اس فٹبال کو ’ٹرائی اونڈا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لفظ ’ٹرائی اونڈا‘ دو الفاظ ’ٹرائی‘ (تین) اور اسپینش لفظ ’اونڈا‘ (لہر)کو ملاکر بنایا گیا ہے۔
بال میں سرخ، نیلا اور سبز رنگ نمایاں ہے، جن کے ساتھ ہر میزبان ملک کا علامتی نشان شامل ہے۔
کینیڈا کی نمائندگی کے لیے میپل کے پتے، میکسیکو کے لیے عقاب اور امریکا کے لیے ستارے کا نشان ہے جبکہ بال پر موجود پیٹرن اتحاد کی علامت ہے۔
introducing: TRIONDA
the Official Match Ball of the 2026 @fifaworldcup.
فیفا ورلڈکپ کی آفیشل گیند میں اس بار جدید ٹیکنالوجی بھی نصب کی گئی ہے جو ہرموومنٹ کا ڈیٹا فراہم کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق پہلی بار گیند میں کنیکٹڈ بال ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔
گیند میں 500 ہرٹز موشن سینسر نصب ہے جس کی مدد سے ریفریز کو آف سائیڈ اور ہینڈ بال جیسے فیصلے فوری اور درست کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈکپ آئندہ سال 11 جون سے 19 جولائی تک منعقد ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔