وفاقی و صوبائی حکومتوں کی آئی ایم ایف سے بجٹ سرپلس ہدف پر نظرثانی کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-28
اسلام آباد / کراچی (جسارت ڈیسک) وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے پاکستان کے موجودہ بجٹ سرپلس ہدف پر نظرثانی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومتی مذاکراتی ٹیمیں ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں، تاکہ معاشی عدم استحکام اور قرضوں کے بوجھ کو قابو کیا جائے۔پاکستان نے گزشتہ بجٹ میں سرپلس ہدف طے کیا تھا تاکہ بین الاقوامی قرض دہندگان اور تجارتی شراکت داروں کو اعتماد دیا جائے۔ تاہم، رواں سال بدلی ہوئی معاشی صورتِ حال، آمدنی میں کمی اور اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے مسئلہ بن چکے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر اہم اقتصادی حکام نے بتایا ہے کہ یہ ہدف طے کرنا اب ممکن نہیں رہا، اور اس پر عمل درآمد سے عوام پر تیز مہنگائی اور ٹیکس بوجھ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست کا مقصد ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ بجٹ شکل دینا ہے۔آئی ایم ایف کے حکام ممکنہ طور پر اس درخواست کا باضابطہ جائزہ لیں گے، اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال، بیرونی مالی ضروریات اور مالیاتی کارکردگی کی بنیاد پر از سرِ نو اہداف متعین کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔