data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-08-28
اسلام آباد / کراچی (جسارت ڈیسک) وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے پاکستان کے موجودہ بجٹ سرپلس ہدف پر نظرثانی کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومتی مذاکراتی ٹیمیں ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں، تاکہ معاشی عدم استحکام اور قرضوں کے بوجھ کو قابو کیا جائے۔پاکستان نے گزشتہ بجٹ میں سرپلس ہدف طے کیا تھا تاکہ بین الاقوامی قرض دہندگان اور تجارتی شراکت داروں کو اعتماد دیا جائے۔ تاہم، رواں سال بدلی ہوئی معاشی صورتِ حال، آمدنی میں کمی اور اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے مسئلہ بن چکے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر اہم اقتصادی حکام نے بتایا ہے کہ یہ ہدف طے کرنا اب ممکن نہیں رہا، اور اس پر عمل درآمد سے عوام پر تیز مہنگائی اور ٹیکس بوجھ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست کا مقصد ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ بجٹ شکل دینا ہے۔آئی ایم ایف کے حکام ممکنہ طور پر اس درخواست کا باضابطہ جائزہ لیں گے، اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال، بیرونی مالی ضروریات اور مالیاتی کارکردگی کی بنیاد پر از سرِ نو اہداف متعین کریں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری