جو معاشرہ اپنے اساتذہ کا احترام کرتا ہے وہ اپنا مستقبل محفوظ بناتا ہے، صدرِ مملکت
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یومِ اساتذہ پر کہا ہے کہ تدریس محض پیشہ نہیں ایک مقدس ذمہ داری ہے، اساتذہ نسلوں کے اذہان سنوارتے اور کردار کی تربیت کرتے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کے دیہی و شہری علاقوں میں اساتذہ کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، مشکل حالات کے باوجود علم کی شمع جلانے والے اساتذہ قوم کا سرمایہ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اساتذہ کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے، طلبہ کی تیاری کے لیے اساتذہ کو ڈیجیٹل وسائل اور تربیت دینا ضروری ہے، حکومتِ پاکستان تدریس کے شعبے کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اساتذہ کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر دنیا بھر کے اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اداروں کو مضبوط بنانا، ٹیکنالوجی کا انضمام اور بہتر سہولتیں اولین ترجیحات ہیں، قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اساتذہ کی عزت و توقیر کو یقینی بنایا جائے۔
اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ جو معاشرہ اپنے اساتذہ کا احترام کرتا ہے وہ اپنا مستقبل محفوظ بناتا ہے۔ قومی یکجہتی، جدت اور ترقی کے لیے اساتذہ کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اساتذہ کو
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔