Express News:
2026-07-24@08:00:35 GMT

اساتذہ کی عزت، عظمت اور وقار کا اعتراف

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

استاد وہ شخصیت ہے جس کی بدولت جہالت کے اندھیرے چھٹتے ہیں اور علم کی کرنیں نسلوں کو راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ دن نہ صرف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبورکرتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی استاد کی عظمت کو اس مقام پر رکھا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔

5 اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ علم کے سفر میں استاد کا کردار محض رہنمائی تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر لکھتا ہے۔

اس دن کی ابتدا 1994 میں ہوئی جب یونیسکو نے اسے باضابطہ طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ 1966 میں بین الاقوامی سطح پر طے پانیوالے ILO/UNESCO Recommendation کو یاد دلایا جائے، جس میں اساتذہ کے حقوق، فرائض اور پیشہ ورانہ تربیت کے اصول متعین کیے گئے تھے۔

وقت کے ساتھ اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ دنیا کو یہ احساس ہونے لگا کہ اگر تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے استاد کو بااختیار اور باعزت بنانا ہوگا۔

آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن کی ایک تھیم مقررکی جاتی ہے جو تعلیمی چیلنجز اور اساتذہ کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔

2025 کے لیے یونیسکو نے جو تھیم منتخب کی ہے وہ ہے:Recasting teaching as a collaborative profession۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تدریس کو ایک انفرادی ذمے داری کے بجائے ایک اجتماعی اور باہمی تعاون پر مبنی پیشہ سمجھا جائے۔

یعنی تعلیم صرف استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں والدین، تعلیمی ادارے، حکومتیں اورکمیونٹیز سب شریک ہیں۔ اس تھیم کے ذریعے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تعلیم میں تنوع، جدت اور اشتراک لازمی ہے۔

یونیسکو کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 44 ملین اساتذہ مختلف تعلیمی سطحوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مزید 69 ملین اساتذہ کی ضرورت ہے تاکہ 2030 تک تعلیم سب کے لیے کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔

اس کمی کی سب سے زیادہ شدت ترقی پذیر ممالک میں ہے جہاں نہ صرف تعلیمی وسائل کم ہیں بلکہ اساتذہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں استاد کو قومی ہیروکا درجہ حاصل ہے۔

فن لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا میں استاد کی عزت اتنی زیادہ ہے کہ معاشرہ انھیں قوم کی تعمیرکا ستون مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا تعلیمی نظام دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط تصورکیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر فن لینڈ میں اساتذہ کو ڈاکٹروں اور وکلاء کے برابر سماجی حیثیت حاصل ہے اور ان کے لیے سخت انتخابی عمل رکھا جاتا ہے تاکہ صرف بہترین اور باصلاحیت افراد ہی تدریس کے شعبے میں داخل ہو سکیں۔

نتیجتاً وہاں کے تعلیمی نتائج دنیا کے دیگر ممالک سے نمایاں ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں استاد کو عزت تو دی جاتی ہے لیکن عملی طور پر انھیں وہ مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں جن کے وہ مستحق ہیں۔

آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور جو بچے اسکول جاتے ہیں وہاں اکثر اساتذہ کی کمی، ناکافی تربیت اور محدود وسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو اپنے تعلیمی اہداف پورے کرنے کے لیے کم از کم مزید 1.

4 ملین اساتذہ درکار ہیں، مگر جب موجودہ اساتذہ کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، تربیتی پروگرام ناکافی ہیں اور انھیں محض ایک سرکاری ملازم سمجھا جاتا ہے تو نئی نسل کی تعلیم کا معیارکیسے بلند ہو سکتا ہے؟

اساتذہ کے مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے بڑھتے ہوئے تقاضوں نے استاد کے کردار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اب استاد کو صرف کتاب پڑھانیوالا نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق، ماہر نفسیات اور ٹیکنالوجی کے ماہر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ سب تقاضے تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب اساتذہ کو بھرپور تربیت، جدید سہولتیں اور پالیسی سطح پر حمایت فراہم کی جائے۔

یہ حقیقت بھی ہے کہ استاد کے بغیر کوئی تحریک یا انقلاب کامیاب نہیں ہوتا۔ استاد کو محض پیشہ ور نہیں بلکہ ایک نظریاتی معمار بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں مسائل خاصے سنگین ہیں۔

دیہی علاقوں میں اکثر اسکول محض نام کے لیے قائم ہیں جہاں نہ استاد موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ شہری علاقوں میں اگرچہ اسکول موجود ہیں لیکن وہاں کلاس رومز کی تعداد کم اور طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ایک استاد کو بسا اوقات 60 سے 70 طلبہ کو پڑھانا پڑتا ہے جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔ اس کے علاوہ استاد کو اکثر غیر تدریسی کاموں جیسے مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی یا دیگر سرکاری امور میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا اصل مقصد یعنی تعلیم متاثر ہوتا ہے۔

اس وقت سندھ میں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت نے پینشن اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی پینشن اور مراعات میں کمی کر دی گئی ہے۔

اس لیے سندھ کے کئی شہروں میں تدریسی عمل رکا ہوا ہے اور اساتذہ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا قیمتی وقت ضایع ہو رہا ہے مگر حکومت تاحال ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اساتذہ کے عالمی دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب تک استاد کو اس کا مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں تب تک کسی قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ استاد کو صرف ایک سرکاری ملازم یا محدود کردار سمجھنے کے بجائے ایک قومی سرمایہ سمجھا جائے۔

والدین اور طلبہ کی ذمے داری ہے کہ وہ استاد کا احترام کریں اور انھیں وہ عزت دیں جو ان کا حق ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کی مثبت مثالوں کو اجاگر کرے تاکہ معاشرے میں استاد کے وقار کو بلند کیا جا سکے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک اساتذہ کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ سب سے پہلے تو اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شفاف بھرتی کا عمل اپنایا جائے تاکہ بہترین دماغ تدریس کے شعبے میں آئیں۔

دوسرا، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور بدلتے نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ تیسرا، اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بجائے پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکیں۔

چوتھا، اساتذہ کو غیر تدریسی ذمے داریوں سے بچایا جائے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی تعلیم و تدریس پر توجہ دے سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں استاد کی عزت کو ایک عملی حقیقت بنایا جائے نہ کہ محض زبانی دعویٰ۔

یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے، اگر ہم نے استاد کو نظر انداز کیا تو ہماری نسلیں اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی۔

لیکن اگر ہم نے استاد کو اس کا مقام دے دیا تو کوئی طاقت ہماری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، ادارے، والدین اور طلبہ سب مل کر اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنے عظیم مشن کو پورے وقار کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں اساتذہ میں استاد اساتذہ کے اساتذہ کو ممالک میں اساتذہ کی جائے تاکہ نہیں بلکہ استاد کو استاد کی ہیں بلکہ کے ساتھ ہیں اور جاتا ہے کہ ایک میں یہ کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا