Express News:
2026-07-24@08:15:58 GMT

اساتذہ کی عزت، عظمت اور وقار کا اعتراف

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

استاد وہ شخصیت ہے جس کی بدولت جہالت کے اندھیرے چھٹتے ہیں اور علم کی کرنیں نسلوں کو راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ دن نہ صرف اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبورکرتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی استاد کی عظمت کو اس مقام پر رکھا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔

5 اکتوبر کو دنیا بھر میں اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور یہ دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ علم کے سفر میں استاد کا کردار محض رہنمائی تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر لکھتا ہے۔

اس دن کی ابتدا 1994 میں ہوئی جب یونیسکو نے اسے باضابطہ طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ مقصد یہ تھا کہ 1966 میں بین الاقوامی سطح پر طے پانیوالے ILO/UNESCO Recommendation کو یاد دلایا جائے، جس میں اساتذہ کے حقوق، فرائض اور پیشہ ورانہ تربیت کے اصول متعین کیے گئے تھے۔

وقت کے ساتھ اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوا کیونکہ دنیا کو یہ احساس ہونے لگا کہ اگر تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے استاد کو بااختیار اور باعزت بنانا ہوگا۔

آج یہ دن 100 سے زائد ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن کی ایک تھیم مقررکی جاتی ہے جو تعلیمی چیلنجز اور اساتذہ کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔

2025 کے لیے یونیسکو نے جو تھیم منتخب کی ہے وہ ہے:Recasting teaching as a collaborative profession۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تدریس کو ایک انفرادی ذمے داری کے بجائے ایک اجتماعی اور باہمی تعاون پر مبنی پیشہ سمجھا جائے۔

یعنی تعلیم صرف استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں والدین، تعلیمی ادارے، حکومتیں اورکمیونٹیز سب شریک ہیں۔ اس تھیم کے ذریعے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے تعلیم میں تنوع، جدت اور اشتراک لازمی ہے۔

یونیسکو کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 44 ملین اساتذہ مختلف تعلیمی سطحوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مزید 69 ملین اساتذہ کی ضرورت ہے تاکہ 2030 تک تعلیم سب کے لیے کے ہدف کو پورا کیا جا سکے۔

اس کمی کی سب سے زیادہ شدت ترقی پذیر ممالک میں ہے جہاں نہ صرف تعلیمی وسائل کم ہیں بلکہ اساتذہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ بھی اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں استاد کو قومی ہیروکا درجہ حاصل ہے۔

فن لینڈ، جاپان اور جنوبی کوریا میں استاد کی عزت اتنی زیادہ ہے کہ معاشرہ انھیں قوم کی تعمیرکا ستون مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا تعلیمی نظام دنیا میں سب سے زیادہ مضبوط تصورکیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر فن لینڈ میں اساتذہ کو ڈاکٹروں اور وکلاء کے برابر سماجی حیثیت حاصل ہے اور ان کے لیے سخت انتخابی عمل رکھا جاتا ہے تاکہ صرف بہترین اور باصلاحیت افراد ہی تدریس کے شعبے میں داخل ہو سکیں۔

نتیجتاً وہاں کے تعلیمی نتائج دنیا کے دیگر ممالک سے نمایاں ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں استاد کو عزت تو دی جاتی ہے لیکن عملی طور پر انھیں وہ مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں جن کے وہ مستحق ہیں۔

آج بھی لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور جو بچے اسکول جاتے ہیں وہاں اکثر اساتذہ کی کمی، ناکافی تربیت اور محدود وسائل کا سامنا کرتے ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق پاکستان کو اپنے تعلیمی اہداف پورے کرنے کے لیے کم از کم مزید 1.

4 ملین اساتذہ درکار ہیں، مگر جب موجودہ اساتذہ کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، تربیتی پروگرام ناکافی ہیں اور انھیں محض ایک سرکاری ملازم سمجھا جاتا ہے تو نئی نسل کی تعلیم کا معیارکیسے بلند ہو سکتا ہے؟

اساتذہ کے مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے بڑھتے ہوئے تقاضوں نے استاد کے کردار کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اب استاد کو صرف کتاب پڑھانیوالا نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق، ماہر نفسیات اور ٹیکنالوجی کے ماہر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ سب تقاضے تبھی پورے ہو سکتے ہیں جب اساتذہ کو بھرپور تربیت، جدید سہولتیں اور پالیسی سطح پر حمایت فراہم کی جائے۔

یہ حقیقت بھی ہے کہ استاد کے بغیر کوئی تحریک یا انقلاب کامیاب نہیں ہوتا۔ استاد کو محض پیشہ ور نہیں بلکہ ایک نظریاتی معمار بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں مسائل خاصے سنگین ہیں۔

دیہی علاقوں میں اکثر اسکول محض نام کے لیے قائم ہیں جہاں نہ استاد موجود ہوتے ہیں اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ شہری علاقوں میں اگرچہ اسکول موجود ہیں لیکن وہاں کلاس رومز کی تعداد کم اور طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ایک استاد کو بسا اوقات 60 سے 70 طلبہ کو پڑھانا پڑتا ہے جو کسی بھی معیار کے لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔ اس کے علاوہ استاد کو اکثر غیر تدریسی کاموں جیسے مردم شماری، الیکشن ڈیوٹی یا دیگر سرکاری امور میں لگا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا اصل مقصد یعنی تعلیم متاثر ہوتا ہے۔

اس وقت سندھ میں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت نے پینشن اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی پینشن اور مراعات میں کمی کر دی گئی ہے۔

اس لیے سندھ کے کئی شہروں میں تدریسی عمل رکا ہوا ہے اور اساتذہ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ کا قیمتی وقت ضایع ہو رہا ہے مگر حکومت تاحال ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اساتذہ کے عالمی دن کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب تک استاد کو اس کا مقام اور سہولتیں نہیں ملتیں تب تک کسی قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ استاد کو صرف ایک سرکاری ملازم یا محدود کردار سمجھنے کے بجائے ایک قومی سرمایہ سمجھا جائے۔

والدین اور طلبہ کی ذمے داری ہے کہ وہ استاد کا احترام کریں اور انھیں وہ عزت دیں جو ان کا حق ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ استاد کی مثبت مثالوں کو اجاگر کرے تاکہ معاشرے میں استاد کے وقار کو بلند کیا جا سکے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان سمیت تمام ممالک اساتذہ کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ سب سے پہلے تو اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شفاف بھرتی کا عمل اپنایا جائے تاکہ بہترین دماغ تدریس کے شعبے میں آئیں۔

دوسرا، اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور بدلتے نصاب کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ تیسرا، اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ مالی مشکلات کے بجائے پوری توجہ تعلیم پر مرکوز کر سکیں۔

چوتھا، اساتذہ کو غیر تدریسی ذمے داریوں سے بچایا جائے تاکہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی تعلیم و تدریس پر توجہ دے سکیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں استاد کی عزت کو ایک عملی حقیقت بنایا جائے نہ کہ محض زبانی دعویٰ۔

یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ استاد ایک ایسا چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے، اگر ہم نے استاد کو نظر انداز کیا تو ہماری نسلیں اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی۔

لیکن اگر ہم نے استاد کو اس کا مقام دے دیا تو کوئی طاقت ہماری ترقی کو روک نہیں سکے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں، ادارے، والدین اور طلبہ سب مل کر اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنے عظیم مشن کو پورے وقار کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام اور سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں اساتذہ میں استاد اساتذہ کے اساتذہ کو ممالک میں اساتذہ کی جائے تاکہ نہیں بلکہ استاد کو استاد کی ہیں بلکہ کے ساتھ ہیں اور جاتا ہے کہ ایک میں یہ کے لیے

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا