ملک میں شوگر، نزلہ، کھانسی، اینٹی بائیوٹک و دیگر عام استعمال کی ادویات پھر سے مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اکتوبر2025ء ) ملک میں ادویات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے اینٹی بائیوٹک، شوگر اور دیگر عام استعمال کی ادویات پھر سے مہنگی کردی گئیں۔ دنیا نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ 1076 روپے میں فروخت ہونے والی شوگر کی دوا اینوسیٹا پلس اب 1 ہزار 255 روپے میں دستیاب ہوگی، اینٹی بائیوٹک ایزومیکس کے 10 کیپسول کا پیکٹ 795 روپے تک جا پہنچا، صرف یہی نہیں بلکہ اینا فورٹان پلس ٹیبلٹ کی قیمت بھی 950 روپے کر دی گئی۔
اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ زخموں کے علاج میں استعمال ہونے والی بیٹنوویٹ کریم کی قیمت 164 روپے سے بڑھ کر 180 روپے ہوچکی ہے، اسی طرح بسلری ٹیبلٹ کی قیمت 488 سے بڑھ کر 490 روپے مقرر کی گئی ہے، نزلہ اور کھانسی کے شربت کی قیمت بھی بڑھا دی گئی جو اب 80 روپے سے بڑھ کر 200 روپے تک جا پہنچی ہے۔(جاری ہے)
حال ہی میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک بھر میں جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی غیر معمولی اور شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کم از کم 80 اہم ادویات دستیاب نہیں، جن میں سے 25 کی کوئی متبادل دوا بھی موجود نہیں، ان میں ذیابیطس، کینسر، الزائمر، پارکنسن، امراضِ قلب اور نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی جان بچانے والی ادویات شامل ہیں۔
اس ضمن میں جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت سے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس تباہ کن صورتحال پر قابو پایا جا سکے، ادویات کی قلت کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ دائمی اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے جان لیوا خطرہ ہے، مریض شدید پیچیدگیوں کا شکار ہیں اور ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے، طویل اثر رکھنے والی انسولین کے انجیکشن کی عدم دستیابی ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر پر قابو نہ پانے کا باعث بن رہی ہے، پیوند کاری کے مریض ایک اہم اینٹی فنگل دوا کی کمی کے باعث خطرناک فنگس انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فوری طور پر ایک نئی اور حقیقت پسندانہ دوا کی قیمتوں کی پالیسی منظور کی جائے، جو پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ادویات کی تیاری کو مالی طور پر ممکن بنا سکے، ادویات کی قلت کی ایک بڑی وجہ بلیک مارکیٹ کا بے قابو کاروبار ہے، یہ غیر قانونی بازار ملک بھر میں پروان چڑھ رہے ہیں اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں بار بار اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ادویات کی کی قیمت
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔