Daily Sub News:
2026-06-03@02:44:43 GMT

اب ہم عزت کے قابل ٹھہرے

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

اب ہم عزت کے قابل ٹھہرے

اب ہم عزت کے قابل ٹھہرے WhatsAppFacebookTwitter 0 5 October, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال
پاکستان آج اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں دنیا کی نظریں اس پر اب ایک کمزور یا جدوجہد کرتی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد اور قوت سے دوبارہ جنم لینے والی ایک قوم کے طور پر ٹکی ہوئی ہیں۔ شاید کرکٹ کے میدان کے سوا، یہ ملک ہر شعبے میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عزت اور کامیابی سے بہرہ مند ہوا ہے، چاہے وہ سفارت کاری ہو یا دفاع۔ قرآن مجید ایک لازوال اصول یاد دلاتا ہے: ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (سورہ رعد: 11)۔ پاکستان کی قسمت میں حالیہ برسوں میں آنے والی یہ حیرت انگیز تبدیلی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک شعوری جدوجہد اور قربانیوں پر مبنی عمل ہے۔
یہ تبدیلی اپنی انتہا کو اس رات کو پہنچی جب 8 اور 9 مئی 2025 کو بھارتی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں آپریشن ”بنیان المرصوص” شروع کیا گیا۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہ تھی بلکہ قوم کی تقدیر کا فیصلہ کن لمحہ تھی۔ دنیا طویل عرصے تک پاکستان کو بھارتی جارحیت کے مقابلے میں محض ردعمل دینے والا ملک سمجھتی رہی، مگر اس رات ہماری عسکری قیادت نے ایسی برق رفتاری اور غیر معمولی مہارت سے پلٹا مارا کہ ماہرین بھی حیران رہ گئے۔ یہ صرف میدانِ جنگ کی کامیابی نہ تھی بلکہ اس خواب کی تعبیر تھی جو 1947 سے سینوں میں پل رہا تھا—کہ پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع جرات اور کامیابی کے ساتھ کرسکتا ہے۔ اس بار بھارتی ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم ٹوٹ گیا اور دنیا نے پاکستانی افواج کی نظم و ضبط، صلاحیت اور عزم کا اعتراف کیا۔
اس فتح نے دنیا میں پاکستان کی شبیہ کو ازسرِ نو متعین کر دیا۔ وہی مخالفین جو پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے کے درپے تھے، اب اس کی قوت کے معترف ہوگئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد جب اسرائیل نے قطر پر حملہ کیا تو پاکستان نے خاموش رہنے کے بجائے یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک اور امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ایک برادر اسلامی ملک کے دفاع کی ہماری تیاری نے ہمیں خلیجی ممالک کے مزید قریب کر دیا اور سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ محض علامتی نہ تھا، بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان کو اب اسلامی دنیا کی ڈھال سمجھا جانے لگا ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے: ”اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا” (سورہ محمد: 7)۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان کی آواز زیادہ توانا اور معتبر ہو گئی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے غیر معمولی وضاحت اور قوت کے ساتھ غزہ، کشمیر اور اسلامی اتحاد کے معاملات پر بات کی۔ یہ صرف تقریریں نہ تھیں بلکہ ان کے پیچھے سفارتی کوششیں، امدادی قافلے اور عوامی تحریکیں موجود تھیں۔ یہاں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کا کردار خصوصی ذکر کا مستحق ہے۔ انہوں نے غزہ کے لیے ”گلوبل فریڈم فلوٹیلا موومنٹ” میں عملی طور پر شمولیت اختیار کر کے پاکستان کو عالمی ضمیر کی ایک بڑی تحریک سے جوڑ دیا۔ اس پرخطر راستے پر قدم رکھ کر مشتاق احمد خان پہلے پاکستانی سابق رکن پارلیمان بنے جنہوں نے اس تحریک سے وابستہ ہو کر دنیا کو یاد دلایا کہ فلسطین کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی محض زبانی نہیں بلکہ عملی، جیتی جاگتی اور واضح ہے۔
واشنگٹن میں بھی پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ جہاں پہلے بداعتمادی اور کشیدہ تعلقات تھے، وہاں اب تعریف اور پاکستان کی علاقائی استحکام میں اہمیت کا اعتراف دکھائی دیا۔ دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تجارتی بات چیت نئی بلندیوں کو چھونے لگیں۔ یوں لگتا تھا جیسے کئی دہائیوں کی ناہموار سفارت کاری ایک نئے باب میں داخل ہو گئی ہو۔
تاہم ان کامیابیوں کے درمیان ہمیں فخر کے ساتھ احتیاط کو بھی ساتھ رکھنا ہوگا۔ دہشت گرد نیٹ ورکس، جو اکثر دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی پشت پناہی سے چلتے ہیں، اب بھی ہماری سرزمین پر خوف پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری افواج پر حملے، فرقہ وارانہ دراڑیں اور معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں اس بڑے منصوبے کا حصہ ہیں جو پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم چوکس رہیں اور اپنی اتحاد کو اندرونی یا بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں کمزور نہ ہونے دیں۔
اس موقعہ پر ایک اور خطرہ بھی محسوس ہوتا ہے—وہ یہ کہ ہم کہیں اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو جائیں۔ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہر بڑھا ہوا ہاتھ مخلص نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ پاکستان کی ابھرتی طاقت کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہوں، اس لیے آنے والا راستہ صرف جرات ہی نہیں بلکہ حکمت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
پاکستان کے نئے مقام کے تجزیے سے تین حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ اول، محض فوجی کامیابیاں عزت کو قائم نہیں رکھ سکتیں جب تک ان کے ساتھ سیاسی استحکام اور معاشی ترقی نہ ہو۔ دوم، عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا ایک نازک شے ہے—اسے مسلسل سفارت کاری، اصولی خارجہ پالیسی اور اندرونی اتحاد سے پروان چڑھانا ہوگا۔ سوم، قیادت کا اصل امتحان فتح حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اسے تکبر، خود فریبی اور اندرونی اختلافات سے محفوظ رکھنے میں ہے۔
یوں پاکستان کی موجودہ بحالی اللہ کی عطا بھی ہے اور ایک ذمہ داری بھی۔بے شک یہ اللہ ہی کی عطا ہے جس نے اس قوم کو اس کی کوتاہیوں کے باوجود نوازا، مگر یہ ہر پاکستانی پر ذمہ داری بھی ہے کہ اس عزت کو محفوظ رکھے اور آگے بڑھائے۔ عزت نعروں سے قائم نہیں رہتی بلکہ عمل سے—اداروں کو مضبوط بنانے، کرپشن کے خاتمے، تعلیم کے فروغ اور انصاف کی فراہمی سے۔
دنیا اب پاکستان کو ایک جرات مند اور استقامت رکھنے والی قوم کے طور پر دیکھتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود کو بھی اسی روشنی میں دیکھ پائیں گے؟ اور کیا ہم اس عزت کو اتحاد، حکمت اور غیر متزلزل ایمان کے ساتھ محفوظ رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پاکستان کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ عظمت کے وعدے سے روشن ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیپلز پارٹی کے رہنما تسنیم احمد قریشی کی عمرہ ادائیگی، جدہ میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام نبی کریم ﷺ کی وصیت اور آج کا چین مئی 2025: وہ زخم جو اب بھی بھارت کو پریشان کرتے ہیں انقلاب – مشن نور ایکو ٹورازم اپنے بہترین مقام پر: ایتھوپیا کی وانچی, افریقہ کے گرین ٹریول کی بحالی میں آگے جسٹس محمد احسن کو بلائیں مگر احتیاط لازم ہے! کالا باغ ڈیم: میری کہانی میری زبانی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی