data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-01-7
لاہور(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام بھیکے وال موڑ، وحدت روڈ لاہور پر غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کر کے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ خواتین مارچ کی قیادت ڈاکٹر حمیرا طارق سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین، جماعت اسلامی پاکستان، دیگر مرکزی قائدین اور مقامی رہنماؤں نے کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے، فلیکس اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیلی مظالم کے خلاف شدید مذمتی نعرے درج تھے۔غزہ مارچ کی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے نائب وزیراعظم اسحق ڈار کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے 2ریاستی حل کو پاکستان کی ریاستی پالیسی قرار دیے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور اس کے عوام صرف اور صرف ریاست فلسطین کے قیام کے حامی ہیں۔اسی طرح فلسطین پر قابض اسرائیل کو تسلیم کرنے بارے پاکستانی قوم ہرگز اجازت نہ دے گی،ٹرمپ کا نام نہاد غزہ امن معاہدہ دہشت گرد اسرائیل کی سرپرستی اور حماس کے خاتمے کا منصوبہ ہے، صہیونی قابض ریاست امریکی سرپرستی میں غزہ میں بچوں کا قتل عام کررہی ہے، اس نے صمود فلوٹیلا پر حملہ کیا اور امدادی کارکنوں کو یرغمال بنایا، گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔ حکمران جان لیں وہ امریکا کے غلام ہوسکتے ہیں، غیور پاکستانی نہیں۔ پوری قوم حماس اور اہل فلسطین کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ’’معاہدہ ابراہام‘‘ جیسے منصوبے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ڈپٹی سیکرٹری حلقہ خواتین اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے اپنے مؤقف میں غیر ضروری تنازعات یا اشتعال انگیزی سے اجتناب کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا ثبوت دیا ،قیدیوں کا باہم تبادلہ اور اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل سیٹ اپ ایک حقیقی اور منصفانہ حل کی طرف اشارہ کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ’’معاہدہ ابراہام‘‘ جیسے منصوبے کا مقصد فلسطینی عوام کوزندہ دفن کرناہے، جسے پاکستانی عوام کبھی قبول نہیں کریں گے ، ارض فلسطین کا 2 ریاستی حل والے مؤقف کوواپس نہ لیاگیا تو پورا ملک جام کر دیں گے۔ انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ۔صدر حلقہ لاہور عظمیٰ عمران اور شریک قائدین نے حافظ نعیم الرحمن کے اس بیان کی توثیق کی جس میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے سینیٹر مشتاق احمد خان کی فوری رہائی اور بازیابی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ مارچ کی شرکا سے ثمینہ سعید، ڈاکٹر زبیدہ جبیں ،نازیہ توحید ،عظمیٰ عمران و دیگر خواتین رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق ، ثمینہ سعید و دیگر لاہور میں غزہ ملین مارچ میں شریک ہیں

 

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی حلقہ خواتین کرتے ہوئے فلسطین کے انہوں نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار