بیرسٹر سیف کی ایمل ولی کو ذاتی طور پر سکیورٹی دینے کی آفر
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے اے این پی کے سربراہ ایمل ولی کو ذاتی طور پر سیکیورٹی دینے کی آفر کر دی۔ اے این پی سربراہ ایمل ولی خان سے وفاق کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے سیکیورٹی واپس لی ہے، یہ خبر سامنے آنے پر بیرسٹر سیف نے ردِعمل دیا ہے،ترجمان خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ ایمل ولی خان کو ضرورت پڑی تو میں ذاتی طور پر اُن کو سیکیورٹی فراہم کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایمل ولی پریشان نہ ہوں وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے احکامات کے مطابق ان کی سیکیورٹی یقینی بنائیں گے،بیرسٹر سیف نے کہا کہ ایمل ولی کو وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کے سامنے تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ اے این پی ترجمان کہہ چکے ہیں کہ آئی جی خیبر پختون خوا نے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایات نظر انداز کر دیں، لگتا ہے وہ بے بس ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے ایمل ولی خان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمل ولی
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔