مشتاق احمد اسرائیلی فوج کی حراست میں مگر خیریت سے ہیں، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں سوار سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان تاحال اسرائیلی فوج کی حراست میں ہیں۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گلوبل صمودفلوٹیلا میں سوارپاکستانی شہریوں کی حفاظت اور واپسی کے لیے عالمی شراکت داروں سے رابطے میں ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ کہ دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع سے تصدیق ہوئی کہ مشتاق احمد فلسطین پر قابض اسرائیلی فورسزکی حراست میں ہیں تاہم ذرائع سےمعلوم ہوا کہ مشتاق احمد خان خیریت سے ہیں۔
انڈونیشیا: مدرسہ منہدم ہونے سے جاں بحق افراد کی تعداد 17 ہوگئی، درجنوں لاپتہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقامی قانونی ضوابط کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، عدالت سے ڈی پورٹیشن آرڈرجاری ہونے کےبعد ان کی واپسی فوری بنیادوں پرممکن بنائی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق وزارت خارجہ نے ان افراد کی واپسی بھی ممکن بنائی جو پہلے اتر گئے تھے، پاکستان نے ان برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستانی شہریوں کی واپسی میں تعاون کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، توقع ہےشہریوں کی واپسی کا عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔
امیر بالاج کیس میں اہم موڑ، خواجہ اظہر کے پاس کس کی آڈیو موجود ہے؟ تفصیلات منظرعام پر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ مشتاق احمد کی واپسی
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔