وفاق کے فیصلے کے برعکس کے پی حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی فراہم کردی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ کے پی فراز مغل کے مطابق ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے آئی جی خیبر پختونخوا کو واضح ہدایت دی ہے کہ ان کی سیکیورٹی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لے لی، صدر اے این پی کا شدید ردعمل
میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے خاندان کو ماضی میں نشانہ بنایا جا چکا ہے، اس لیے سیکیورٹی میں کمی کسی صورت ممکن نہیں۔ انسانی جان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاسی رہنماؤں کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں تو انہیں ہر ممکن تحفظ دیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے میری اور میرے خاندان کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔ اگر مجھے یا میرے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمل ولی ایمل ولی سیکیورٹی علی امین گنڈاپور فیصل کریم کنڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایمل ولی ایمل ولی سیکیورٹی علی امین گنڈاپور فیصل کریم کنڈی سیکیورٹی واپس ایمل ولی خان حکومت نے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔