وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ کے پی فراز مغل کے مطابق ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لینے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کیا تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے آئی جی خیبر پختونخوا کو واضح ہدایت دی ہے کہ ان کی سیکیورٹی ہر صورت برقرار رکھی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے ایمل ولی خان سے سیکیورٹی واپس لے لی، صدر اے این پی کا شدید ردعمل

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ ایمل ولی خان کے خاندان کو ماضی میں نشانہ بنایا جا چکا ہے، اس لیے سیکیورٹی میں کمی کسی صورت ممکن نہیں۔ انسانی جان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاسی رہنماؤں کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں تو انہیں ہر ممکن تحفظ دیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے میری اور میرے خاندان کی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔ اگر مجھے یا میرے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمل ولی ایمل ولی سیکیورٹی علی امین گنڈاپور فیصل کریم کنڈی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمل ولی ایمل ولی سیکیورٹی علی امین گنڈاپور فیصل کریم کنڈی سیکیورٹی واپس ایمل ولی خان حکومت نے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ