سشانت سنگھ خودکشی کیس؛ 5 سال بعد ریا چکرورتی کو بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ ریا چکرورتی کو بالآخر پانچ سال بعد ان کا پاسپورٹ واپس مل گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بمبئی ہائیکورٹ نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کو اداکارہ کا پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ان کی ضمانت کی شرائط میں نرمی کی جائے۔
یاد رہے کہ ریا چکرورتی کا پاسپورٹ 2020 میں ضبط کیا گیا تھا، جب وہ ایک ڈرگ کیس میں نامزد ہوئیں، جو اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا تھا۔
ابھرتے ہوئے اداکار سشانت سنگھ جون 2020 میں ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت نے پورے بھارت میں ہلچل مچادی تھی اور ریا اس کیس میں سب سے زیادہ تنقید اور دباؤ کا شکار رہیں۔
یاد رہے کہ سشانت کی موت کے بعد ریا کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم ایک ماہ بعد اس ضمانت پر رہائی ملی تھی کہ وہ اپنا پاسپورٹ این سی بی کے پاس جمع کرائیں۔
ریا کے لیے پاسپورٹ واپس ملنے کا فیصلہ ایک بڑا ریلیف سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اب وہ فلمی دنیا اور ذاتی زندگی میں آزادانہ سفر اور نئے مواقع حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
33 سالہ ریاچکروتی نے پاسپورٹ واپس ملنے پر خوشی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر پاسپورٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اب اپنی زندگی کے "چیپٹر ٹو” کے لیے تیار ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاسپورٹ واپس
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔