پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کی ہدایات نظرانداز کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کی سیکیورٹی واپس لے لی۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے سیکیورٹی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کے باوجود پولیس اہلکاروں کو آج صبح لائن حاضر کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی سیکیورٹی کے بعد خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے تعینات اہلکار بھی واپس بلا لیے گئے جس کے بعد ایمل ولی خان کی سیکیورٹی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔

بٹ کوائن کا نیا ریکارڈ، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اے این پی کے ترجمان نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم ان کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم وزیراعلیٰ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنا مؤقف واضح کیا، مگر بظاہر وہ بھی بےاختیار نظر آتے ہیں۔

اے این پی رہنما انجینئر احسان اللہ خان نے کہا کہ ہائبرڈ ریجیم کے پارٹنرز نے وزیراعلیٰ کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے، وہ آئی جی کے سامنے بے بس ہیں، اے این پی آج پارٹی صدر ایمل ولی خان کی سیکیورٹی کے لیے نیا لائحہ عمل طے کرے گی۔

ویڈیو : نیا پنجاب وجود میں آنے لگا، سینکڑوں گاؤں میں صاف پانی کی فراہمی، مریم نواز کا وعدہ پورا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ایمل ولی خان کی سیکیورٹی

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن