ترجمان وزیراعلیٰ کی تنقید پر صدر پی ٹی آئی پختونخوا برہم، کل تک عہدے سے ہٹانے کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
جنید اکبر کی جانب سے مطالبہ پی ٹی آئی کے مرکزی واٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں سامنے آیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کی تشکیل کردہ ٹیم مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ترجمان فراز مغل کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔ جنید اکبر کی جانب سے مطالبہ پی ٹی آئی کے مرکزی واٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں سامنے آیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کی تشکیل کردہ ٹیم مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر ایمل ولی کی سکیورٹی سے متعلق میری ٹوئٹ پر فراز مغل نے تنقید کی جبکہ اس سے قبل بھی وہ فیک اکاؤنٹس کے ذریعے ایسی حرکات کر چکا ہے۔ جنید اکبر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ کا ترجمان میرے خلاف ٹوئٹ کرتا ہے تو مطلب واضح ہے کہ اسے وزیراعلیٰ کی آشیر باد حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی یہ معاملہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لا چکے ہیں، اگر فراز مغل کو کل تک ہٹایا نہ گیا تو وہ بھرپور جواب دیں گے۔ مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر میں یہ لکھ دوں کہ تم لوگوں کی اتنی حیثیت نہیں کہ آئی جی تمہاری سنے تو پھر کیا ہوگا؟ آڈیو پیغام کے آخر میں جنید اکبر نے کہا کہ وہ اس واٹس ایپ گروپ کو چھوڑ رہے ہیں جہاں ایسے لوگ موجود ہوں جو پارٹی قیادت کی بے عزتی کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔