اسلام ٹائمز: سابق امریکی افسر کے مطابق چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

پریس ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر نے کہا ہے کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی ادارے اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں۔ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے امریکی جہاز میں سے اتفاقی طور پر زندہ بچ جانے والے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر فلپ ٹورنی نے 1967 کے اسرائیلی حملے کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں "وسیع پیمانے پر واقعہ کی پردہ پوشی" کے لئے وارننگ دی گئی تھی۔ اس حملے کی تفصیل کے علاوہ ٹورنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اداروں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکی حکومت نے سچائی بتانے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔ 

پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹورنی نے وضاحت کی کہ یو ایس ایس لبرٹی 7 جون 1967 کو جزیرہ نما سینا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تعینات تھا، اور اسے شروع سے ہی اسرائیلی جاسوسی طیاروں نے دیکھ لیا تھا، صیہونی ستارے کے نشان والے طیارے آئے اور اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے ہمارے لئے دوستی کی علامت ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خطے میں داخل ہونے سے پہلے دو بار تباہ کن جہاز کے اسکارٹ مہیا کرنے کے لئے کہا، لیکن دو بار ہی مسترد کردیا گیا کہ جہاز پر امریکی پرچم لہرا رہا ہے اور آپ بین الاقوامی پانیوں میں ہیں، لہذا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، لیکن اسرائیلی طیاروں نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا۔

ٹورنی کے مطابق اسرائیلی جاسوس پروازیں کئی دن تک جاری رہیں، طیارے اتنے نیچے اترے تھے کہ ڈیک ہل جاتا تھا اور ہمارا اسٹاف اسرائیلی پائلٹوں کو دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایک منظم حملہ تھا، یہ اتفاق نہیں تھا، پہلے تین سیکنڈ میں، تمام اینٹینا اور مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا گیا، ہماری مشین گنیں اور توپیں بھی غیر فعال ہوگئیں۔ سابق امریکی افسر کا کہنا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں سے فضائی مدد بھیجی گئی تھی، لیکن پھر انہیں حکم آیا کہ لبرٹی کی مدد نہ کریں، اڈے پر واپس آجائیں، ہم اپنے اتحادی اسرائیل کو شرمندہ نہیں کرینگے، یہ فیصلہ جہاز کو بمباری اور میزائلوں سے نشانہ بنوانے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

ٹورنی نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد جہاز کو ڈبو کر مصر کیخلاف امریکہ کو تیسری جنگ عظیم میں شامل کرنے اور ان زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جہاز ڈوب جاتا تو 294 افراد ہلاک ہوجاتے اور تیسری جنگ عظیم شروع ہوتی، خدا کی مدد سے ہم بچ گئے اور ایک عالمی تباہی رک گی، اسی وقت میں نے اپنے 34 بھائیوں کو مرتے ہوئے دیکھا، یہ الزامات 1967 کے واقعے تک محدود نہیں مصری قیدیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ انہوں نے سچائی کو دبانے میں امریکی حکومت کے کردار کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ زندہ بچ جانے والے امریکی اسٹاف کی گواہی کو تبدیل یا چھپا دیا گیا ہے اور انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خاموش رہنے کے لئے کہا گیا تھا یا جیل یا اس سے بھی بدتر کی دھمکی دی گئی، ہر کوئی جانتا تھا کہ اس بدتر کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے بارے میں ٹورنی نے کہا کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی لابی، اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں، وہ لابی کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتے ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ قانون ساز کسی نہ کسی طرح اسرائیل کے مقروض ہیں، یہ مداخلت امریکی سیاست میں ایک کینسر بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حل بدعنوان سیاستدانوں کا خاتمہ اور اسرائیل کو ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر شناخت کروانا ہے۔

سابق امریکی افسر نے حالیہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی اور مالی تعلقات کا جائزہ لینے اور اسے ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ امریکی حکومت ایک بار پھر امریکی عوام کے اختیار میں آ جائے۔ ٹورنی نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی پر اسرائیل کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ مشرق وسطیٰ میں لامتناہی جنگوں میں الجھا ہوا ہے اور پہلی خلیجی جنگ سے لے کر آج تک اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہوا ہے۔ انہوں نے "گریٹر اسرائیل" منصوبے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام، عراق اور اردن سمیت آس پاس کے تمام علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے، یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، اور صیہونی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

ٹورنی نے بیروت بم دھماکے سمیت دیگر تاریخی مثالوں کا حوالہ دیا، جس میں 242 امریکی میرینز ہلاک ہوئے تھے، اور اسے "اسرائیل کے لئے ایک قربانی" قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب اسرائیل سمندر میں امریکیوں کو مار سکتا ہے تو صیہونیوں کے سامنے کوئی حد نہیں رہتی اور ان کے لئے کوئی بھی کارروائی ممکن ہے۔ آخر میں ٹورنی نے پالیسی سازوں اور رائے عامہ کو متنبہ کیا کہ جب تک امریکہ پر اسرائیل کا اثر و رسوخ باقی گا، امریکیوں کی سلامتی اور آزادی کی کوئی ضمانت نہیں، امریکہ پر اسرائیلی قبضہ ختم کروانے کا واحد راستہ بدعنوان سیاستدانوں کو ہٹانا اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیاسی اور مالی پر اسرائیل کے امریکی افسر اسرائیل کو کہ اسرائیل کہ امریکی کرتے ہوئے نے کہا کہ کہا کہ اس ٹورنی نے غیر ملکی انہوں نے دیا گیا کے لئے تھا کہ

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان