امریکہ پر اسرائیلی لابی کے کنٹرول کی کہانی، امریکی افسر کی زبانی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: سابق امریکی افسر کے مطابق چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:
پریس ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کا حوالہ دیتے ہوئے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر نے کہا ہے کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی ادارے اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں۔ اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے امریکی جہاز میں سے اتفاقی طور پر زندہ بچ جانے والے یو ایس ایس لبرٹی کے سابق افسر فلپ ٹورنی نے 1967 کے اسرائیلی حملے کے بارے میں کہا ہے کہ ہمیں "وسیع پیمانے پر واقعہ کی پردہ پوشی" کے لئے وارننگ دی گئی تھی۔ اس حملے کی تفصیل کے علاوہ ٹورنی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اداروں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکی حکومت نے سچائی بتانے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔
پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹورنی نے وضاحت کی کہ یو ایس ایس لبرٹی 7 جون 1967 کو جزیرہ نما سینا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں تعینات تھا، اور اسے شروع سے ہی اسرائیلی جاسوسی طیاروں نے دیکھ لیا تھا، صیہونی ستارے کے نشان والے طیارے آئے اور اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے ہمارے لئے دوستی کی علامت ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خطے میں داخل ہونے سے پہلے دو بار تباہ کن جہاز کے اسکارٹ مہیا کرنے کے لئے کہا، لیکن دو بار ہی مسترد کردیا گیا کہ جہاز پر امریکی پرچم لہرا رہا ہے اور آپ بین الاقوامی پانیوں میں ہیں، لہذا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، لیکن اسرائیلی طیاروں نے امریکی جہاز کو نشانہ بنایا۔
ٹورنی کے مطابق اسرائیلی جاسوس پروازیں کئی دن تک جاری رہیں، طیارے اتنے نیچے اترے تھے کہ ڈیک ہل جاتا تھا اور ہمارا اسٹاف اسرائیلی پائلٹوں کو دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ایک منظم حملہ تھا، یہ اتفاق نہیں تھا، پہلے تین سیکنڈ میں، تمام اینٹینا اور مواصلاتی آلات کو نشانہ بنایا گیا، ہماری مشین گنیں اور توپیں بھی غیر فعال ہوگئیں۔ سابق امریکی افسر کا کہنا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں سے فضائی مدد بھیجی گئی تھی، لیکن پھر انہیں حکم آیا کہ لبرٹی کی مدد نہ کریں، اڈے پر واپس آجائیں، ہم اپنے اتحادی اسرائیل کو شرمندہ نہیں کرینگے، یہ فیصلہ جہاز کو بمباری اور میزائلوں سے نشانہ بنوانے کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
ٹورنی نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد جہاز کو ڈبو کر مصر کیخلاف امریکہ کو تیسری جنگ عظیم میں شامل کرنے اور ان زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جہاز ڈوب جاتا تو 294 افراد ہلاک ہوجاتے اور تیسری جنگ عظیم شروع ہوتی، خدا کی مدد سے ہم بچ گئے اور ایک عالمی تباہی رک گی، اسی وقت میں نے اپنے 34 بھائیوں کو مرتے ہوئے دیکھا، یہ الزامات 1967 کے واقعے تک محدود نہیں مصری قیدیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا اور اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔ انہوں نے سچائی کو دبانے میں امریکی حکومت کے کردار کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ زندہ بچ جانے والے امریکی اسٹاف کی گواہی کو تبدیل یا چھپا دیا گیا ہے اور انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خاموش رہنے کے لئے کہا گیا تھا یا جیل یا اس سے بھی بدتر کی دھمکی دی گئی، ہر کوئی جانتا تھا کہ اس بدتر کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ امریکی قانون سازوں پر اسرائیل کے سیاسی اور مالی اثر و رسوخ کے بارے میں ٹورنی نے کہا کہ کانگریس میں تقریبا تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹس اسرائیلی لابی، اے آئی پی اے سی (American Israel Public Affairs Committee) کے زیر اثر ہیں، وہ لابی کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتے ہیں اور 90 فیصد سے زیادہ قانون ساز کسی نہ کسی طرح اسرائیل کے مقروض ہیں، یہ مداخلت امریکی سیاست میں ایک کینسر بن چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا حل بدعنوان سیاستدانوں کا خاتمہ اور اسرائیل کو ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر شناخت کروانا ہے۔
سابق امریکی افسر نے حالیہ مسائل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چارلی کرک کے قتل کا مقصد ممکنہ طور پر امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کو راستے سے ہٹانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطین اور غزہ کے خلاف جارحیت سمیت دنیا بھر میں اسرائیل کی بہت سی کارروائیاں امریکی وسائل اور ساز و سامان کی حمایت اور فراہمی سے کی جاتی ہیں۔ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ سے روزانہ 10 ملین ڈالر وصول کرتا ہے، جبکہ ہمارے اپنے ملک میں بے گھر افراد اور سابق فوجی بے سہارا ہیں، لیکن ہمارے تمام وسائل اسرائیل جاتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کے ساتھ سیاسی اور مالی تعلقات کا جائزہ لینے اور اسے ایک غیر ملکی ریاست اور غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ امریکی حکومت ایک بار پھر امریکی عوام کے اختیار میں آ جائے۔ ٹورنی نے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی پر اسرائیل کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ مشرق وسطیٰ میں لامتناہی جنگوں میں الجھا ہوا ہے اور پہلی خلیجی جنگ سے لے کر آج تک اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ہوا ہے۔ انہوں نے "گریٹر اسرائیل" منصوبے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام، عراق اور اردن سمیت آس پاس کے تمام علاقوں پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے، یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، اور صیہونی اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
ٹورنی نے بیروت بم دھماکے سمیت دیگر تاریخی مثالوں کا حوالہ دیا، جس میں 242 امریکی میرینز ہلاک ہوئے تھے، اور اسے "اسرائیل کے لئے ایک قربانی" قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب اسرائیل سمندر میں امریکیوں کو مار سکتا ہے تو صیہونیوں کے سامنے کوئی حد نہیں رہتی اور ان کے لئے کوئی بھی کارروائی ممکن ہے۔ آخر میں ٹورنی نے پالیسی سازوں اور رائے عامہ کو متنبہ کیا کہ جب تک امریکہ پر اسرائیل کا اثر و رسوخ باقی گا، امریکیوں کی سلامتی اور آزادی کی کوئی ضمانت نہیں، امریکہ پر اسرائیلی قبضہ ختم کروانے کا واحد راستہ بدعنوان سیاستدانوں کو ہٹانا اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی اور مالی پر اسرائیل کے امریکی افسر اسرائیل کو کہ اسرائیل کہ امریکی کرتے ہوئے نے کہا کہ کہا کہ اس ٹورنی نے غیر ملکی انہوں نے دیا گیا کے لئے تھا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔