دمشق میں عبوری پارلیمنٹ کے لیے ووٹنگ مکمل، صدر احمد الشراع کو مزید اختیارات حاصل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
دمشق میں شام کی عبوری پارلیمنٹ کے ارکان کے انتخاب کے لیے مقامی کمیٹیوں نے ووٹنگ مکمل کر لی۔ نئی 210 رکنی اسمبلی میں سے ایک تہائی اراکین یعنی 70 براہِ راست صدر احمد الشراع خود مقرر کریں گے، جبکہ باقی دو تہائی ارکان مقامی کمیٹیوں کے ذریعے منتخب کیے جا رہے ہیں۔
یہ عمل سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبوری نظامِ حکومت کے قیام کا حصہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قریباً 6,000 افراد نے ووٹ ڈالے اور 1,500 امیدوار میدان میں ہیں جن میں صرف 14 فیصد خواتین شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: فلسطینیوں کو شامل کیے بغیر امن ناممکن‘، جماعت اسلامی ملین مارچ کرے گی’
شام کے کرد اکثریتی شمال مشرقی علاقے اور دروز اکثریتی صوبہ السویدا اس عمل سے باہر ہیں کیونکہ وہ دمشق کے کنٹرول میں نہیں۔ صدر الشراع نے تسلیم کیا کہ انتخابی عمل نامکمل ہے لیکن موجودہ حالات میں اسے مناسب اور معتدل قرار دیا۔
یہ اسمبلی مستقل آئین کی منظوری اور آئندہ براہِ راست انتخابات کی راہ ہموار کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دمشق شام صدر احمد الشراع عبوری پارلیمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صدر احمد الشراع عبوری پارلیمنٹ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔