لبریشن فرنٹ کی محمد یاسین ملک کے بارے میں الجیریرہ میں شائع ہونے والی رپورٹ کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
مرکزی ترجمان اور محمد یاسین ملک کے خصوصی نمائندے محمد رفیق ڈار نے رپورٹ کو جعلی اور زہریلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کے ایک عظیم رہنما کی شبیہ کو خراب کرنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے 2 اکتوبر کو الجزیرہ کی طرف سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کی شدید مذمت کی ہے جو کسی نامعلوم رپورٹر نے 85 صفحات پر مشتمل محمد یاسین ملک کے اس جواب کے بارے میں لکھی ہے جو انہوں نے اپنی سزائے موت کی این آئی اے کی درخواست کے حوالے سے دلی ہائیکورٹ میں جمع کرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ انتہائی مشتبہ ہے جو نامعلوم رپورٹر نے محمد یاسین ملک کی طرف سے جمع کرائے گئے مفصل جواب کی گہرائی میں جائے بغیر انتہائی مذموم مقاصد کے تحت تیار کی ہے۔ مرکزی ترجمان اور محمد یاسین ملک کے خصوصی نمائندے محمد رفیق ڈار نے رپورٹ کو جعلی اور زہریلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کے ایک عظیم رہنما کی شبیہ کو خراب کرنا ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر الجزیرہ نے رپورٹ کو جلد از جلد درست نہ کیا یا اس پر معذرت نہ کی تو جموں و کشمیر ہتک عزت کے مقدمے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر نظربند محمد یاسین ملک ایک مقبول و معرورف آزادی پسند رہنما ہیں جن کا بے لوث اور فعال کردار و قربانیاں سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کی سزائے موت کی درخواست پر یاسین ملک کا 85 صفحات کا جواب ان کے تمام دشمنوں کے لیے چشم کشا ہے۔محمد رفیق ڈار نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ بھارتی ایجنسیوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے یاسین ملک کے خلاف ایک مذموم مہم شروع کر رکھی ہے تاہم یہ لوگ اپنے مذموم منصوبوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک عدالت نے انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ تحقیقاتی ادارے نے اب عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی درخواست دے رکھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد یاسین ملک کے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :