پاکپتن: کھیت میں کام کرنے والی 13 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پنجاب کے ضلع پاکپتن میں تھانہ چکبیدی کے علاقے میں اوباش شخص نے کھیت میں کام کرنے والی 13 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
پولیس حکام نے کہا کہ اللہ دتہ نامی ملزم نے فصلوں میں کام کرتی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گیا۔
ڈی پی او پاکپتن جاوید چدھڑ کی جانب سے وقوعہ کا نوٹس لیے جانے کے بعد تھانہ چکبیدی پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا، تھانہ چکبیدی پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
ڈی پی او جاوید چدھڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن پر خواتین کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، لڑکی سے زیادتی میں ملوث ملزم کو سخت سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔