پاکپتن: کھیت میں کام کرنے والی 13 سالہ لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنادیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پنجاب کے ضلع پاکپتن میں تھانہ چکبیدی کے علاقے میں اوباش شخص نے کھیت میں کام کرنے والی 13 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
پولیس حکام نے کہا کہ اللہ دتہ نامی ملزم نے فصلوں میں کام کرتی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گیا۔
ڈی پی او پاکپتن جاوید چدھڑ کی جانب سے وقوعہ کا نوٹس لیے جانے کے بعد تھانہ چکبیدی پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا، تھانہ چکبیدی پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔
ڈی پی او جاوید چدھڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن پر خواتین کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، لڑکی سے زیادتی میں ملوث ملزم کو سخت سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔