آزاد کشمیرکے شہریوں کیلیے پولیس نے کوئی حکم جاری نہیں کیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251006-08-17
اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد پولیس نے آزاد کشمیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک آڈیو ٹیپ کو جعلی قراردیا ہے ۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اتوار کو ا یک بیان میں کہا کہ آڈیو ٹیپ میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے افراد کو راولپنڈی اسلام آباد کی حدود میں خاص طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ یہ خبر سراسر غلط ہے اور جھوٹی ہے۔ اسلام آباد پولیس کو ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ معمول کی چیکنگ سب شہریوں کے لیے برابر ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ گمراہ کن افواہوں اور پراپیگنڈہ پر کان مت دھریں۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں پکار 15 پر اطلاع دیں۔ گمراہ کن افواہ پھیلانا قانونا جرم ہے اور اس جرم کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔