مشتاق احمد کی رہائی کا معاملہ؛ دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
مشتاق احمد کی رہائی کا معاملہ؛ دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 6 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
سابق سینیٹر مشتاق احمد کی اسرائیلی حراست سے رہائی کے معاملے پر دفتر خارجہ نے اہم پیشرفت سے آگاہ کر دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، اردن کے دارالحکومت عمّان میں موجود اپنے سفارت خانے کے ذریعے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی بحفاظت واپسی کے لیے انتھک کوششیں کر رہی ہے۔پاکستانی پراڈکٹس خریدیں
ترجمان نے بتایا کہ برادر ملک اردن کی حکومت کے قیمتی تعاون سے ہمیں امید ہے کہ یہ عمل آئندہ چند روز میں کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال سے متعلق جسٹس اسحاق کا خط سامنے آگیا مصنوعی ذہانت کے عدلیہ میں استعمال سے متعلق جسٹس اسحاق کا خط سامنے آگیا عمرایوب، شیخ وقاص اکرم اور زرتاج گل کے وارنٹ گرفتاری جاری غزہ جنگ بندی کے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی، حماس اسرائیل بالواسطہ مذاکرات آج ہوں گے نواز شریف کے حق میں بیان حلفی، سابق چیف جج گلگت کے خلاف توہین عدالت کیس ختم اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا تاریخ ساز آغاز؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا گلوبل صمود فلوٹیلا کے مزید 29 ارکان اسرائیل سے ڈی پورٹ ہوکر اسپین پہنچ گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ مشتاق احمد
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔