میری قید کے دوران فیملی اور بہنوں کے خلاف مہم تکلیف دہ ہے، عمران خان کا جیل سے پیغام
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ میں دو سال سے جیل میں ہوں، جبکہ باہر میری فیملی اور بہنوں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے جو تکلیف دہ ہے۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ جب کوئی بھی میرے پیغام کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا، تب میں ںے یہ ذمہ داری بہن کو دی۔
ہر جگہ پھیلا دیں ????
عمران خان نے بہت دکھ کا اظہار کیا کہ میں دو سال سے جیل کے اندر ہوں اور باہر میری فیملی اور بہنوں کے خلاف کمپین چلائی جا رہی ہیں۔
میرے پیغام کا بوجھ کوئی اٹھانے کے لئے تیار نہیں تھا اس لئے یہ زمہ داری بہنوں کو دی pic.
— Faisal Khan (@KaliwalYam) October 6, 2025
علیمہ خان نے کہاکہ عمران خان نے مجھے بتایا کہ باہر جا کر یہ بتاؤ کہ یہ پارٹی کو 30 سال سے موجود ہے، لیکن بہنوں نے کبھی کسی عہدے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔
علیمہ خان نے کہاکہ ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین تو عمران خان ہی ہیں، اب یہ بات کیوں کی جاتی ہے کہ ان کے بعد کون ہوگا، ہم تو انہیں جلد از جلد قید سے نکالنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے کانوں میں بھی یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ عمران خان 10 سال تک قید سے باہر نہیں آئیں گے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پر بنائے گئے تمام کیسز جعلی ہیں۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ’انہوں ںے مجھے کہاکہ یہ اب آپ کو گرفتار کرلیں گے کیوں کہ ملک میں کوئی قانون نہیں‘۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہاکہ عمران خان ہمارا اکلوتا بھائی ہے، ہم اس کی رہائی کے لیے کوششیں تو کریں گی۔ ہمارا اصل مقصد ان کو قید سے نکالنا ہے۔
انہوں ںے کہاکہ عنقریب عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے، تاکہ ان کو تنہائی میں رکھا جا سکے اور کوئی ملاقات نہ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان نے کہاکہ میں کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بننا چاہتی، اب عمران خان کا پیغام میری بہنیں دیا کریں گی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے حال ہی میں ایک الزام عائد کیا تھا کہ علیمہ خان ایم آئی کے لیے کام کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی جیل سے پیغام علیمہ خان عمران خان نورین خان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی جیل سے پیغام علیمہ خان وی نیوز پی ٹی ا ئی علیمہ خان نے کہاکہ کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔