چین میں آبادی میں کمی، فیکٹریوں میں روبوٹس کی ریکارڈ تنصیب
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین میں آبادی میں کمی کے باعث گزشتہ سال 2 لاکھ 95 ہزار نئے صنعتی روبوٹس فیکٹریوں میں نصب کیے گئے، جو ملکی صنعت میں خودکار نظام کے تیز رفتار فروغ کی علامت ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی سے بوڑھی ہوتی آبادی کے باعث روبوٹ ٹیکنالوجی مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، جس سے چین کا مینوفیکچرنگ سیکٹر مزید مستحکم ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی فیڈریشن آف روبوٹکس (IFR) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، چین میں اس وقت فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد 20 لاکھ 27 ہزار تک پہنچ چکی ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 2024 میں دنیا بھر میں نصب کیے گئے 5 لاکھ 42 ہزار روبوٹس میں سے 54 فیصد صرف چین میں نصب ہوئے۔ یہ روبوٹس گاڑیوں کی تیاری، الیکٹرانکس اسمبلنگ اور بھاری سامان کی منتقلی جیسے کاموں میں انسانوں کی جگہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اب اگلا مرحلہ ہیومنائیڈ روبوٹس (انسانی شکل کے خودکار روبوٹ) کا ہے، جو صنعتی ترقی کا نیا دور متعارف کرا سکتا ہے۔
چینی شہر گوانگ ڈونگ میں ایک کمپنی نے حال ہی میں 10 ہزار ہیومنائیڈ روبوٹس کا آرڈر حاصل کیا ہے — جو اس شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا آرڈر ہے۔ ان روبوٹس کا مقصد بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کے لیے خودکار نظام متعارف کرانا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، چین کی آبادی میں پچھلے سال 0.
دنیا بھر میں 2024 کے دوران روبوٹس کی مجموعی تنصیبات 9 فیصد بڑھ کر 46 لاکھ 64 ہزار تک پہنچ گئیں۔
اس فہرست میں جاپان دوسرے نمبر پر رہا جہاں 45 ہزار نئے روبوٹس نصب کیے گئے، جبکہ امریکا تیسرے نمبر پر رہا جہاں 34 ہزار 200 روبوٹس فیکٹریوں میں لگائے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روبوٹس کی کے مطابق چین میں
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔