تاریخ میں پہلی بار بٹ کوائن 3 کروڑ 52 لاکھ سے زائد کا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قدر تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 25 ہزار امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، پاکستانی روپے میں یہ رقم 3 کروڑ 52 لاکھ 31 ہزار 578 روپے بنتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قدر اس کی 17 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 25 ہزار 245 ڈالر ہوگئی جو کہ تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز بٹ کوائن کی قدر میں 2 اعشاریہ 7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ بٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل آٹھویں سیشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ اضافے اور بٹ کوائن پر مبنی ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے سہارا دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔