بٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، امریکی ڈالر تنزلی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن نے اتوار کو نئی تاریخ رقم کی اور عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 1,25,245.57 ڈالر تک جا پہنچی۔
بٹ کوائن کی گزشتہ بلند ترین سطح 1,24,480 ڈالر تھی جو رواں سال اگست کے وسط میں اس وقت ریکارڈ ہوئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے کرپٹو کے لیے نسبتاً دوستانہ ریگولیشنز سامنے آئے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بٹ کوائن 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
گزشتہ جمعے کو بٹ کوائن مسلسل 8ویں سیشن میں اوپر گیا جسے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ تیزی اور بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے سہارا دیا۔
دوسری جانب، امریکی ڈالر جمعے کو تنزلی کا شکار رہا اور بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کئی ہفتوں کی کمزور پوزیشن پر آگیا۔
امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال اور اہم معاشی ڈیٹا، جیسے روزگار کے اعدادوشمار، میں تاخیر نے ڈالر کی قدر پر دباؤ ڈالا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بٹ کوائن ڈالر قیمت کرپٹو کرنسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بٹ کوائن ڈالر کرپٹو کرنسی بٹ کوائن
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔