علیمہ خان کے 10ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
راولپنڈی(جنرل رپورٹر)انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کے کیس میں علیمہ خان کے 10 ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔تفصیلات کے مطابق مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔عدالت نے علیمہ خان کی اسلام آباد اور پنجاب بھر میں ملکیتی پراپرٹی کی دوبارہ تفصیلات بھی طلب کر لیں ۔جبکہ بینک اکاؤنٹس منجمند نا کرنے پر دو بینک مینجرز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔علیمہ خان جمعرات کوبھی پیش نہیں ہوئیں ،جبکہ ملزمان حاضری کے بعد روانہ ہوگئے، مقدمے کے دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کر کے 17 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کو 9 مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری کر کے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا، 5 گواہان کو طلب کیا گیا تھا۔وکیل صفائی فیصل ملک کا کہنا تھا کہ علیمہ خان پیش نہیں ہوں گی، ہم مقدمے کی دہشت گردی کی دفعہ چیلنج کر چکے ہیں۔ یہ دہشت گردی کی دفعات کا کیس ہی نہیں بنتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔