جسٹس امین الدین کے آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدہ پر تقرر کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سٹی42: صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین کے آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدہ پر تقرر کی منظوری دے دی.
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے جسٹس امین الدین خان کو چیف جسٹس آئینی عدالت تقرر کی منظوری دیئے جانے کے بعد ستائیس ویں ترمیم کے سب سے اہم کمپوننٹ پر عملدرآمد کا رسمی آغاز ہو گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ کے تقرر کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے متعلق باقی امور وفاقی آئینی عدالت کے معزز سربراہ خود انجام دیں گے۔
افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں
جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس ہیں۔
صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کے تقرر کی منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی۔
جسٹس امین الدین خان اب تک سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ تھ۔ آئینی بنچ 26 ویں ترمیم کے نتیجہ مین بنا تھا، اب اس آئینی بنچ کی جگہ مکمل آزاد وفاقی آئینی عدالت لے رہی ہے اور اس آزاد وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس مسٹر جسٹس امین الدین خان ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔
کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ
27 ویں آئینی ترمیم کا بل دونوں ایوانوں سے منظور ہونے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔
آرٹیکل 176 میں ترمیم کے تحت موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ٹرم پوری ہونے تک چیف جسٹس آف پاکستان کہا جائےگا۔ آرٹیکل 255 شق دو میں ترمیم کی گئی ہے جو کہ موجودٹرم کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی سے متعلق ہے۔
اس کے بعد اصول یہ بنایا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ میں سے سینئر ترین چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔
وفاقی عدالتوں کے ملازمین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت کے جسٹس امین الدین خان آئینی عدالت چیف جسٹس ا کی منظوری صدر مملکت کے بعد
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔