بھارت نے پہلے جوایڈونچر کیا اس کے بعد پوری دنیا میں ذلت اٹھائی؛ خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلے جوایڈونچر کیا اس کے بعد پوری دنیا میں ذلت اٹھائی اور اُس کی عزت خاک میں ملی ہے۔ اب اگردوبارہ اس طرح کی حرکت کرے گاتو زیادہ رسوا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا، کہا کہ وہ جو کوشش کررہے ہیں یہ انتخِابی مرحلے اور سیاست کی وجہ سے ان کی اندرون خانہ ضرورت بن گئی ہے۔
دارالحکومت میں رواں سال 2025 کے ڈینگی کیسز کی تفصیلات جاری
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ غزہ کے مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی، امن منصوبے کی وجہ سے غزہ میں روشنی کی کرن نظرآئی ہے۔ ابھی اس حوالے سے حتمی صورتحال سامنے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ چیزیں فائنل ہونی ہیں اس کی حتمی شکل سامنے آجائے گی، فلسطین کی ریاست قائم ہوگی اور وہ اپنی ریاست میں آزادی کا سانس لے سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دنیا کہ ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کے حقوق کی بات کرے اور ان کا ساتھ دے، دنیا فلسطین کے لیے گلیوں بازاروں اور شہروں میں نکلی، یہ اس بات کی شہادت ہے کہ آزاد، فلسطین ریاست قائم ہونی چاہیے۔
ماونٹ ایوریسٹ ؛ سینکڑوں کوہ پیما سخت موسم میں پھنس گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔