ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ 13 انٹرنیشنل ٹیموں کیخلاف سنچری بنانیوالے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ 13 انٹرنیشنل ٹیموں کیخلاف سنچری بنانیوالے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
آکلینڈ (سب نیوز )ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کپتان شائی ہوپ نے انٹرنیشنل کرکٹ میں نئی تاریخ رقم کر دی۔بدھ کو ویسٹ انڈیز اور میزبان نیوزی لینڈ 3 میچز کی ون ڈے سیریز کے دوسرے میچ میں نیپیئر میں مدمقابل تھے۔جہاں ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے شاندار سنچری اسکور کرتے ہوئے 109 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔
اس سنچری کے ساتھ ہی شائی ہوپ دیگر تمام 11 ٹیسٹ پلیئنگ نیشنز اور مجموعی طور پر انٹرنیشنل کرکٹ میں 13 مختلف ٹیموں کے خلاف سنچری اسکور کرنے والے دنیا کے پہلے بیٹر بن گئے۔شائی ہوپ تمام 11 فل ممبر ٹیموں اور پھر نیدرلینڈز اور نیپال کے خلاف بھی انٹرنیشنل سنچریاں بنا چکے ہیں۔جس کی بدولت وہ کرکٹ کی تاریخ میں واحد کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے 13 مختلف ٹیموں کے خلاف سنچریاں اسکور کیں۔
اس فہرست میں انہوں نے کرس گیل اور سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے کو پیچھے چھوڑ دیا، جنہوں نے 12 مختلف ٹیموں کے خلاف انٹرنیشنل سنچریاں بنائیں۔ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ 13 انٹرنیشنل ٹیموں کیخلاف سنچری بنانیوالے دنیا کے پہلے کرکٹر بن گئے
مجموعی طور پر یہ شائی ہوپ کی ون ڈے کی 19ویں سنچری تھی، جس کے ساتھ ہی انہوں نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ برائن لارا کے 19 سنچریوں کے ریکارڈ کو برابر کردیا۔ جبکہ کرس گیل 25 سنچریوں کے ساتھ ویسٹ انڈیز کی جانب سے ون ڈے میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی ہیں۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے نیوزی لینڈ کیخلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں پر 247 رنز بنائے تھے۔میزبان نیوزی لینڈ نے ہدف با آسانی 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرتے ہوئے 3 میچز کی سیریز میں 0-2 کی برتری حاصل کرلی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور یورپی یونین کا غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کیلئے معاونت کا اعادہ پاکستان اور یورپی یونین کا غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کیلئے معاونت کا اعادہ بھارت کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل نے میری مشاورت سے فیصلے کیے، وزیر اعظم چیئر مین سی ڈی اے سے جڑوں شہروں کے ممبران اسمبلی کی ملاقات،ترقیاتی کاموں پر گفتگو پاک بھارت جنگ: بھارتی حکومت کی امریکی کانگریس رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنیکی کوشش ناکام کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں متعدد حملے کیے: ڈنمارک پاکستان میں کرپشن مستقل چیلنج، سیاسی و معاشی اشرافیہ جیبیں بھر رہی ہے: آئی ایم ایفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کے دنیا کے پہلے خلاف سنچری شائی ہوپ کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔