قاضی نثار احمد پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں، آغا سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ گلگت بلتستان کی وحدت اور امن کو سبوتاژ کرنے کی عالمی استعماری طاقتیں بالخصوص امریکہ کی سازشوں کا شاخسانہ ہے،گلگت بلتستان کے وسائل کو لوٹنے ،حقوق سے محروم رکھنے اور مشترکہ بیانیہ سے ہٹانے کےلئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صدر مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان آغا سید علی رضوی نے اپنے مذمتی بیان میں اہلسنت والجماعت کے امیر قاضی نثار احمد پر حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ گلگت بلتستان کی وحدت اور امن کو سبوتاژ کرنے کی عالمی استعماری طاقتیں بالخصوص امریکہ کی سازشوں کا شاخسانہ ہے، گلگت بلتستان کے وسائل کو لوٹنے ،حقوق سے محروم رکھنے اور مشترکہ بیانیہ سے ہٹانے کےلئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ دیامر ڈیم ایشوپر جاری دھرنے میں شیعہ علماء کی شرکت اور سوست دھرنے میں گلگت بلتستان کے تمام مکاتب فکر بالخصوص دیامر کے علماء کرام کی شرکت سے امن و اتحاد کی جو فضا بنی تھی وہ علاقہ دشمن اور ملک دشمن طاقتوں کےلئے کھٹک رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم تمام مکاتب فکر کے علماء عالمی مسائل باالخصوص فلسطین کی حمایت ہو یا غاصب ریاست کو تسلیم کرنے کی سازشیوں کی مخالفت ،گلگت بلتستان کی معدنیات امریکہ کو دینے کی منصوبہ بندی کی مخالفت ہویاعلاقائی حقوق کےلئے جدوجہد ہو یا اتحاد و وحدت کی فضا قائم رکھنے اور فروغ دینے کے قرآنی احکامات پر عملدرآمد ہوہم سب متحد ہیں۔ تمام علماء کرام ملکر ان گھناؤنی سازشوں کا مقابلہ کرینگے اور وحدت کی فضا کو قائم رکھیں گے۔سکیورٹی ادارے فوری طور پر اس افسوسناک واقعہ کے ذمہ داران کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔