اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین سال بعد سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم و دیگر کے خلاف توہین عدالت کا کیس ختم کر دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاناما کیس سے متعلق نواز شریف کے حق میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے مبینہ بیان حلفی کے حوالے سے توہین عدالت کا کیس عدالت نے غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دیا۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے کیس کی سماعت کی، سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

وکیل نے بتایا کہ رانا شمیم نے معافی نامہ جمع کروایا تھا اس کے بعد کیس لگا ہی نہیں، اب یہ کیس غیر مؤثر ہوچکا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کیس کافی عرصے بعد مقرر ہوا ہے، اس کیس میں فرد جرم صرف رانا شمیم پر عائد ہوتی تھی۔

سابق انگلش کپتان کی آئی سی سی کو پاک بھارت میچز نہ کرانے کی تجویز

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آخری سماعتوں میں رانا شمیم نے عدالت میں معافی نامہ جمع کروایا تھا، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے کہا کہ پھر ہم اس کیس کونمٹا دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیان حلفی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے توہین عدالت کی کاروائی شروع کی تھی۔

یاد رہے کہ رانا شمیم نے اپنے بیانِ حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار جولائی 2018 میں عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ پر اثر انداز ہوئے تھے۔
 

عدالت نے فلک جاوید کا 4روزہ جسمانی ریمانڈ منظورکرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سابق چیف جج گلگت توہین عدالت چیف جسٹس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا