’کے ایس ریلیف‘ کی جانب سے ’بَثراء‘ مہم کا آغاز، بیرونِ ملک دیہی چھوٹے پروڈیوسرز کنندگان کو بااختیار بنانے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور مرکزِ شاہ سلمان برائے امداد و انسانی خدمات (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے آج ریاض میں بَثراء (بیج) نامی ایک نئی عالمی مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد مملکت سے باہر چھوٹے پیمانے پر دیہی پروڈیوسرز کو بااختیار بنانا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر منصور بن ہلال المشیطی بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ آج ہم بَثراء پہل کے آغاز کا جشن منا رہے ہیں، جو اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب انسانوں کو خود اپنی زندگی سنوارنے کے قابل بنایا جائے۔ یہ پائیداری کا وعدہ ہے اور اس بات کا ثبوت کہ سب سے چھوٹا بیج بھی سب سے بڑی نعمت بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی ولی عہد نے مکہ مکرمہ میں ترقیاتی منصوبے ’شاہ سلمان دروازہ‘ کا آغاز کردیا
انہوں نے کہا کہ کے ایس ریلیف کا یقین ہے کہ سخاوت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ بااختیار بنانے میں ڈھل جائے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بَثراء کا مقصد تکلیف کو موقع میں بدلنا ہے تاکہ متاثرہ طبقات خود پر انحصار کرتے ہوئے آفات پر قابو پا سکیں اور اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کریں۔
یہ مہم سعودی قومی اداروں خصوصاً وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے تجربے کو بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی شراکت داروں کی مہارت سے جوڑتی ہے، تاکہ سعودی اقدار پر مبنی دیرپا اور اثرانگیز نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر الربیعہ نے زور دیا کہ کے ایس ریلیف اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت کمیونٹی فارمنگ (اجتماعی کاشتکاری) کے منصوبے، تکنیکی معاونت اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام، چھوٹے دیہی مالیاتی منصوبے، اور مقامی مصنوعات کے لیے جدید و پائیدار مارکیٹنگ کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کے ایس ریلیف اپنے تمام شراکت داروں بشمول عطیہ دہندگان، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور سماجی ذمہ داری کے علَمبرداروں کو اس عالمی پہل کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔
انجینئر منصور المشیطی نے کے ایس ریلیف کو ’ ایک عالمی انسانی ورثہ اور سعودی عرب کی منفرد شناخت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کے ساتھ شراکت کا مقصد امداد کو ترقی اور سخاوت کو بااختیار بنانے سے جوڑنا ہے تاکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پائیدار ترقی اور انسانی خدمت کا عالمی نمونہ بن چکا ہے، جس کا تجربہ دنیا کے لیے ایک بین الاقوامی حوالہ بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کا روشن سفر، 10 سالہ حکمرانی کا سنگ میل
ان کے مطابق اس کامیابی کی بنیاد قیادت کے تعاون، قومی صلاحیتوں پر اعتماد، اور سرکاری، نجی و غیر منافع بخش شعبوں کے مابین ہم آہنگی ہے۔
تقریب کے اختتام پر بَثراء مہم پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں دنیا کے بحران زدہ علاقوں میں کسانوں، مویشی پالنے والوں، شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں اور ماہی گیروں کے لیے اس مہم کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
فلم میں دکھایا گیا کہ یہ منصوبہ بیج، خام مال، تربیت اور مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کر کے ان طبقات کو خود کفیل بنانے اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بَثراء سعودی عرب کے ایس ریلیف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ب ثراء کے ایس ریلیف کے ایس ریلیف انہوں نے ب ثراء کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔