سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور مرکزِ شاہ سلمان برائے امداد و انسانی خدمات (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے آج ریاض میں بَثراء  (بیج) نامی ایک نئی عالمی مہم کا آغاز کیا، جس کا مقصد مملکت سے باہر چھوٹے پیمانے پر دیہی پروڈیوسرز  کو بااختیار بنانا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر منصور بن ہلال المشیطی بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ آج ہم بَثراء پہل کے آغاز کا جشن منا رہے ہیں، جو اس پختہ یقین سے جنم لیتی ہے کہ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب انسانوں کو خود اپنی زندگی سنوارنے کے قابل بنایا جائے۔ یہ پائیداری کا وعدہ ہے اور اس بات کا ثبوت کہ سب سے چھوٹا بیج بھی سب سے بڑی نعمت بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے سعودی ولی عہد نے مکہ مکرمہ میں ترقیاتی منصوبے ’شاہ سلمان دروازہ‘ کا آغاز کردیا

انہوں نے کہا کہ کے ایس ریلیف کا یقین ہے کہ سخاوت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ بااختیار بنانے میں ڈھل جائے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بَثراء کا مقصد تکلیف کو موقع میں بدلنا ہے تاکہ متاثرہ طبقات خود پر انحصار کرتے ہوئے آفات پر قابو پا سکیں اور اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کریں۔
یہ مہم سعودی قومی اداروں خصوصاً وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت کے تجربے کو بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی شراکت داروں کی مہارت سے جوڑتی ہے، تاکہ سعودی اقدار پر مبنی دیرپا اور اثرانگیز نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

ڈاکٹر الربیعہ نے زور دیا کہ کے ایس ریلیف اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جس کے تحت کمیونٹی فارمنگ (اجتماعی کاشتکاری) کے منصوبے، تکنیکی معاونت اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام، چھوٹے دیہی مالیاتی منصوبے، اور مقامی مصنوعات کے لیے جدید و پائیدار مارکیٹنگ کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے ایس ریلیف اپنے تمام شراکت داروں بشمول عطیہ دہندگان، نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور سماجی ذمہ داری کے علَمبرداروں  کو اس عالمی پہل کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔

انجینئر منصور المشیطی نے کے ایس ریلیف کو ’ ایک عالمی انسانی ورثہ اور سعودی عرب کی منفرد شناخت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کے ساتھ شراکت کا مقصد امداد کو ترقی اور سخاوت کو بااختیار بنانے سے جوڑنا ہے تاکہ پائیدار ترقی اور خوشحالی حاصل کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پائیدار ترقی اور انسانی خدمت کا عالمی نمونہ بن چکا ہے، جس کا تجربہ دنیا کے لیے ایک بین الاقوامی حوالہ بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ سلمان کی قیادت میں سعودی عرب کا روشن سفر، 10 سالہ حکمرانی کا سنگ میل

ان کے مطابق اس کامیابی کی بنیاد قیادت کے تعاون، قومی صلاحیتوں پر اعتماد، اور سرکاری، نجی و غیر منافع بخش شعبوں کے مابین ہم آہنگی ہے۔

تقریب کے اختتام پر بَثراء مہم پر ایک دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں دنیا کے بحران زدہ علاقوں میں کسانوں، مویشی پالنے والوں، شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں اور ماہی گیروں کے لیے اس مہم کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

فلم میں دکھایا گیا کہ یہ منصوبہ بیج، خام مال، تربیت اور مارکیٹنگ کی سہولتیں فراہم کر کے ان طبقات کو خود کفیل بنانے اور مقامی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بَثراء سعودی عرب کے ایس ریلیف.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ب ثراء کے ایس ریلیف کے ایس ریلیف انہوں نے ب ثراء کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

فنڈز مہیا کیے جائیں تو کے فور منصوبہ 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے، واپڈا

فائل فوٹو 

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کے فور پروجیکٹ 64 فیصد مکمل ہوچکا ہے، درکار فنڈز مہیا کر دیے جائیں تو واپڈا کےفور منصوبہ 2026 کے دوران مکمل کر سکتا ہے۔

 چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ کراچی شہر کیلئے کے فور پروجیکٹ بہت اہم ہے۔ کراچی شہر کو پانی سپلائی کے اس منصوبے پر اب تک 86 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

کراچی میں ریڈ لائن بس منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا

کراچی کا بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے، اس کی خاصیت یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی بی آر ٹی کے منصوبے میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک بھی بنایا جا رہا ہے۔

چیئرمین واپڈا نے کے فور منصوبے کا دورہ کیا اور کنٹریکٹر ز کو ہدایت کی کہ اضافی وسائل کی دستیابی یقینی بناتے ہوئے تعمیراتی کام میں تیزی لائی جائے ، کے فور پروجیکٹ کراچی شہر کو روزانہ 650 ملین گیلن پانی مہیا کرے گا۔

انہوں نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے فور پروجیکٹ کا دورہ کیا اور اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ ان سائٹس میں ان ٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشن، کینجھر جھیل سے کراچی تک ہائی پریشرائزڈ پائپ لائنز اور فلٹریش پلانٹ شامل ہیں۔

واپڈا ترجمان کے مطابق تمام 8 کنٹریکٹ پیکجز کی اہم سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ 

کے فور: عظیم یا قدیم تر منصوبہ آب رسانی

چند یوم قبل گورنر ہاوس کراچی میں کراچی کو فراہمی...

چیئرمین واپڈا نے پائپ لائن 2 کے کنٹریکٹ پیکیج پر بالخصوص کام تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے ہدایت کی کہ پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران سندھ حکومت سے قریبی اور موثر رابطہ برقرار رکھا جائے۔

کےفور پروجیکٹ دو مراحل میں مکمل ہوگا، اس وقت واپڈا کے فور پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر کام کر رہا  ہے پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم ہوگا۔

چیئرمین واپڈا نے نئی گاج ڈیم پروجیکٹ سائٹ کا بھی دورہ کیا تاکہ اس پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے، نئی گاج ڈیم مکمل ہونے پر 28 ہزار 800 ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آئے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ابوظہبی جانا آسان ہوگیا
  • سڈنی: دوران پرواز دو چھوٹے طیارے ٹکرائے، ایک پائلٹ ہلاک
  • لاہور کی ترقی اور جدت کے لیے ایک اور قدم، وزیر اعلیٰ پنجاب نے لاہور ڈیولپمنٹ پلان فیز2 کا آغاز کر دیا
  • پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن کا آغاز
  • باہمی روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے سعودی عرب میں پاکستانی ثقافت کے 3 روزہ پروگرام کا آغاز
  • فنڈز مہیا کیے جائیں تو کے فور منصوبہ 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے، واپڈا
  • سعودی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف سے امید: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
  • ریاض میٹرو نے اہم سنگ میل عبور کرلیا، گنیز ورلڈ ریکارڈ میں نام درج
  • سعودی عرب اور امارات کی جانب سے عراق کے سنی بلاک کے اتحاد کے لیے بننے والی "قومی سیاسی کونسل" سے عدم توجہی
  • پنجاب میں ویسٹ سے بجلی بنانے کا منصوبہ؛ غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی