سعودی عرب میں لیبر اصلاحات: غیرملکی محنت کشوں کے لیے نئے دور کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سعودی عرب نے اپنی لیبر مارکیٹ میں ایسی بنیادی اصلاحات نافذ کی ہیں جنہوں نے غیرملکی محنت کشوں کے لیے روزگار، اقامت اور سفر کے نظام کو نئی سمت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب میں ریلوے سفر میں 41 فیصد اضافہ، محکمہ شماریات
یہ تبدیلیاں وژن 2030 کے اہداف کے تحت متعارف کرائی گئیں تاکہ معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے محنت کشوں کے حقوق کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹل معاہدوں کا شفاف نظام
وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی نے 2021 میں جو لیبر ریفارم انیشی ایٹو نافذ کیا، اس کے ذریعے اب غیرملکی کارکن ڈیجیٹل معاہدے کے تحت آجروں سے وابستہ ہیں۔
اس نظام نے انفرادی انحصار کو کم کر کے آجر اور اجیر کے درمیان ایک شفاف قانونی تعلق قائم کیا ہے۔ ملازمت کی شرائط، تنخواہ، چھٹیاں اور دیگر ذمہ داریاں اب ایک معیاری معاہدے کے ذریعے طے پاتی ہیں جسے وزارت کے (قوی) پلیٹ فارم پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔
غیرملکی کارکنوں کو بڑھتے اختیارات
ان اصلاحات کے بعد غیرملکی کارکنوں کو وہ اختیارات حاصل ہو گئے ہیں جو ماضی میں محدود تھے۔ اب وہ اپنی مرضی سے ملازمت تبدیل کر سکتے ہیں، بیرونِ ملک سفر کے لیے خود اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں، اور معاہدہ مکمل ہونے پر آزادانہ طور پر ملک واپسی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
تمام خدمات سرکاری ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جس سے شفافیت اور رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اجرتوں اور اوقاتِ کار کی مؤثر نگرانی
وزارت نے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجرت، اوقاتِ کار اور رہائش سے متعلق نگرانی کا مؤثر نظام بھی قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا تاریخی شہر العلا ایک بار پھر کھیلوں کے اہم ایونٹ کی میزبانی کے لیے تیار
ویج پروٹیکشن سسٹم کے ذریعے لاکھوں کارکنوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا رہی ہے، جب کہ لیبر تنازعات کے حل کے لیے قائم تصفیہ مراکز نے درجنوں مقدمات عدالت میں جانے سے پہلے نمٹا دیے ہیں۔ کارکن اب براہِ راست شکایات درج کر سکتے ہیں، جن پر فوری کارروائی ممکن ہے۔
گھریلو شعبے میں انسانی وقار کا تحفظ
گھریلو شعبے میں بھی تدریجی اصلاح کا آغاز کیا گیا ہے۔ 2022 سے اگر کسی آجر کی جانب سے بدسلوکی یا تنخواہ میں تاخیر ثابت ہو جائے تو گھریلو ملازم کو نئی ملازمت اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
وزارت کے مطابق یہ قدم انسانی وقار کے تحفظ اور محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے ناگزیر تھا۔
خصوصی اقامہ پروگرام کے نئے امکانات
اسی کے ساتھ 2019 میں متعارف کرایا گیا خصوصی اقامہ پروگرام غیرملکی سرمایہ کاروں، ماہرین اور پیشہ ور افراد کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھول چکا ہے۔ یہ اقامہ سعودی عرب میں طویل مدتی قیام، جائیداد کی ملکیت، کاروبار کے قیام اور خاندانی ہمراہی کی اجازت فراہم کرتا ہے۔
2024 میں حکومت نے اس پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے سات نئی کیٹیگریز متعارف کرائیں، جن میں سرمایہ کاروں، ہنرمندوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے خصوصی مراعات شامل ہیں۔
ڈیجیٹل اور جدید روزگار نظام کی تشکیل
2025 تک سعودی عرب کا روزگار نظام ایک جدید اور ڈیجیٹل ڈھانچے میں ڈھل چکا ہے۔ وزارتِ افرادی قوت کے مطابق نئی پالیسیوں سے لیبر مارکیٹ میں شفافیت بڑھی ہے، تنازعات میں کمی آئی ہے، اور غیرملکی محنت کشوں کے اطمینان کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ہی خواتین اور مقامی شہریوں کی افرادی قوت میں شمولیت بھی قابلِ ذکر حد تک بڑھی ہے۔
وژن 2030 کا انسانی سرمائے پر اعتماد
یہ تمام تبدیلیاں وژن 2030 کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ مملکت کو ایک ایسی معیشت میں تبدیل کیا جائے جو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل ہو اور جہاں انسانی سرمائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ غیرملکی ماہرین، سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کے لیے یہ اصلاحات نہ صرف بہتر مواقع فراہم کر رہی ہیں بلکہ سعودی عرب کو خطے میں ایک جدید، منصفانہ اور انسانی اصولوں پر مبنی لیبر ماڈل کے طور پر اجاگر کر رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب لیبر اصلاحات لیبر قوانین مزدور وژن 2030 ویج پروٹیکشن سسٹم.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لیبر اصلاحات لیبر قوانین وژن 2030 ویج پروٹیکشن سسٹم محنت کشوں کے کر سکتے ہیں کے ذریعے کے لیے وژن 2030
پڑھیں:
60سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں بڑی اصلاحات : ون وے خلاف ورزی 30روز میں ختم کی جائے ‘ ٹریفک پولیس کو آخری چانس نہتری نہ ہوئی تو نیا دیپارٹمنٹ بنے گا : مریم نواز
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت بڑھتے ٹریفک مسائل پر اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ہیلمٹ، چھتوں پر سواریاں بٹھانے اور دیگرخلاف ورزیوں پر چالان کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 60 سالہ پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 بڑی اصلاحات/ ترامیم لائی گئی ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بار چالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھاری جرمانہ ہوگا۔ اس موقع پر پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوٹرن کی ری ماڈلنگ سے سڑکیں محفوظ بنائی جائیں گی۔ اجلاس میں حادثات میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو دیت فوری طور پر فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا۔ میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا۔ اجلاس میں پنجاب میں کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ختم کرنے کے لیے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی مالک کو 6ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب بھر میں چھت پر سواریاں بٹھانے والی بسوں پر کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا ہے۔ ٹریفک کی بہتری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے لاہور کی پانچ ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مریم نواز نے لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ دوسرے شہر جانے والی گاڑی کو تیز رفتاری سے جلد پہنچنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لاہور سمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کرنا پڑے گا۔ کوئی امتیاز نہ رکھاجائے، خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ دینا پڑے گا۔ ٹریفک پولیس کو آخری چانس دے رہی ہوں، اگلا موقع نہیں ملے گا، نہ کرسکے تو نیا ڈیپارٹمنٹ بنانا پڑے گا۔ ہر چیز ٹھیک کردی مگر ٹریفک کا برا حال ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسلسل بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔