پوپ لیو کی پہلے غیرملکی دورے کے دوران استنبول کی مشہور سلطان احمد مسجد آمد
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
استنبول میں اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے تیسرے دن کا آغاز کرتے ہوئے پوپ لیو چہاردہم نے سلطان احمد مسجد، جسے عام طور پر ‘بلیو مسجد’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کا دورہ کیا۔
یہ تاریخی مسجد اپنے اندرونی حصوں میں موجود 21 ہزار سے زائد فیروزہ رنگ کے ٹائلوں کے باعث مشہور ہے۔ 1617 میں سلطان احمد اوّل نے اسے قسطنطنیہ کے عظیم محلات کے مقام کے ایک حصے پر تعمیر کرایا تھا، اور اس کا مقصد عثمانی سلطنت کی سب سے اہم عبادت گاہ قائم کرنا تھا۔ اس کی تعمیر کا مکمل ریکارڈ 8 جلدوں پر مشتمل ہے جو آج بھی توپ کاپی لائبریری میں محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: زندگی میں شادی صرف ایک شریک حیات کے ساتھ ہونی چاہیے، پوپ لیو کا نیا فرمان جاری
ہفتہ کی صبح پوپ لیو چہاردہم کی آمد پر ترک محکمۂ امورِ مذہبی کے صدر، صافی اَرپاگوش نے ان کا استقبال کیا۔ پوپ بننے کے بعد یہ ان کا کسی مسلم عبادت گاہ کا پہلا باضابطہ دورہ تھا۔
دن بھر پوپ کے کئی اہم ملاقاتیں اور دورے طے ہیں۔ بلو مسجد کے دورے کے بعد وہ مقامی چرچوں اور مسیحی برادریوں کے رہنماؤں سے نجی ملاقات کیلئے سریانی آرتھوڈوکس چرچ آف مور افرائیم جائیں گے۔
بعد ازاں، پیٹریارکل چرچ آف سینٹ جارج میں وہ قسطنطنیہ کے آرتھوڈوکس پیٹریارک، بارتھولومیو اوّل کے ساتھ مشترکہ دعائیہ عبادت ڈوکسا لوجی میں شریک ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
استنبول پوپ لیو ترکیہ نیلی مسجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استنبول پوپ لیو ترکیہ نیلی مسجد پوپ لیو
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔