لندن کی مسجد کا چیریٹی ایونٹ، خواتین کی دوڑ مقابلے میں شرکت پر پابندی کو تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2025ء) برطانیہ میں خواتین کو ایک چیریٹی رن میں شرکت سے روکنے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ دوڑ لندن کے ایک پارک میں مشرقی لندن کی مسجد کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔برطانوی وزیر برائے کمیونٹیز اسٹیو ریڈ نے اس فیصلے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مقام پر خواتین کو مردوں کے ساتھ دوڑنے سے روکنا افسوسناک ہے۔
یہ چیریٹی رن مسجد کی سالانہ پانچ کلومیٹر فنڈ ریزنگ تقریب تھی، اشتہار میں واضح کیا گیا کہ یہ دوڑ صرف مردوں، ہر عمر کے لڑکوں اور 12 سال سے کم عمر لڑکیوں کے لیے ہے۔برطانوی اخبارکی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید شروع ہوئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ایکوئیلٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرے کہ آیا یہ اقدام برطانیہ کے مساواتی قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں۔(جاری ہے)
اسٹیو ریڈ نے کہا، میں اس واقعے پر کسی کی طرح حیران اور افسردہ ہوں، یہ ناقابلِ قبول ہے کہ خواتین کو عوامی تفریحی دوڑ سے روکا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر EHRC نے قانون کی خلاف ورزی ثابت کی تو اس کے نتائج اور سزائیں ہوسکتی ہیں۔مسجد انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ خواتین کو کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتی ہے اور کمیونٹی کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم انہوں نے اتوار کے مخصوص ایونٹ سے متعلق براہ راست وضاحت نہیں دی۔.ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خواتین کو
پڑھیں:
فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں احتجاجی مظاہرہ
شرکاء نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی افسوناک ہے، غزہ میں لوگ روزانہ بمباری کے علاوہ بھوک سے بھی ہلاک ہو رہے ہیں، اسرائیل فوری طور پر خوراک اور ضروریات زندگی کی اشیاء غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ اسلام ٹائمز۔ جنگ مخالف تنظیموں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لندن میں ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا۔ جنگ مخالف تنظیموں کے زیراہتمام ہفتہ کو وسطی لندن میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اب بھی بلا خوف غزہ میں روزانہ حملے کرکے فلسطینیوں کو ہلاک کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے۔ مظاہرے میں بارش اور سخت سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی، اسرائیلی جارحیت کے بعد ہونے والے مظاہروں ہر طرح کے موسم کے دوران شرکاء کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس موقع پر مظاہرے کا آغاز ہائیڈ پارک کارنر سے ہوا اور شرکاء مختلف شاہراہوں سے ہوتے وائیٹ ہال پہنچے، مظاہرے کے شرکاء تمام راستے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے۔
مظاہرے میں شریک مختلف جنگ مخالف تنظیموں کے رہنماؤں کے علاوہ شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ بند کرے اور اپنا غیر قانونی تسلط ختم کرے۔ انہوں نے برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت بند کرے۔ شرکاء نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انتہائی افسوناک ہے، غزہ میں لوگ روزانہ بمباری کے علاوہ بھوک سے بھی ہلاک ہو رہے ہیں، اسرائیل فوری طور پر خوراک اور ضروریات زندگی کی اشیاء غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ غزہ کی ہیلتھ منسٹری کے مطابق نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کو دو برس سے زائد کا عرصہ بیت گیا، جس کے دوران 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔