وفاقی انتظامیہ کی وسیع کارروائی،اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے دفاتر، مساجد اور مدارس سیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وفاقی انتظامیہ کی وسیع کارروائی،اسلام آباد میں ٹی ایل پی کے دفاتر، مساجد اور مدارس سیل WhatsAppFacebookTwitter 0 16 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)تحریک لبیک پاکستان کے دفاتر اور مساجد/مدارس کے خلاف کاروائی کا معاملہ، وفاقی انتظامیہ نے ٹی ایل پی کے دفاتر، مساجد و مدرسہ کو سیل کر دیا۔ مرکزی دفتر ٹی ایل پی رولر ایریا مری روڈ اٹھال چوک سیل کر دیا گیا ،
ذرائع کے مطابق مدینہ ٹاون سملی ڈیم روڈ بھارہ کہو میں واقع ٹی ایل پی آفس سیل کر دیا گیا ، مرکزی جامع مسجد و مدرسہ انوار مدینہ نئی آباد بھارہ کہو سیل کردیا گیا، مرکزی جامع مسجد محلہ ٹیکری نئی آبادی بھارہ کہو سیل کر دی گئی،
یوسی لیول دفتر ٹی ایل پی شاہ پور سملی ڈیم روڈ بھارہ کہو سیل کیا گیا،
مسجد ممتاز قادری، گاوں اٹھال ، سملی ڈیم روڈ بھار کہو سیل کر دی گئی ،
جامع مسجد سترہ میل مری روڈ بھارہ کہو سیل کر دی گئی،یوسی 14 دفتر ٹی ایل پی ، مسجد و مدرسہ ٹی ایل پی واقعہ سیری چوک پھلگراں سیل کر دی گئی،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کا غیر ملکیوں کیلئے نیا بزنس ویزہ پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ حکومت کا غیر ملکیوں کیلئے نیا بزنس ویزہ پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ سینٹر فار ایروسپیس اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے ویبینار میں پاکستان کی معاشی سلامتی کے لیے مالی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا گیا خیبرپختونخوا: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنہ الخوارج کے 34 دہشتگرد جہنم واصل افغانستان میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کی موجودگی کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ گئے بھارتی نژاد اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جاسوسی الزامات میں گرفتاری، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا کتوں کو ہلاک کرنے پر متعلقہ حکام کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا عندیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔