نظام انصاف میں شفافیت، رسائی اورکارکردگی اولین ترجیح ہے،چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
نظام انصاف میں شفافیت، رسائی اورکارکردگی اولین ترجیح ہے،چیف جسٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 2025سے ڈیجیٹل دور کا آغاز ہو چکا، نظام انصاف میں شفافیت، رسائی اور کارکردگی اولین ترجیح ہے، چیف جسٹس نے عدالتی اصلاحات پر ججز اور اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ 45سال بعد عدالتی قوانین میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں،چین کی اعلی عدالت کے ساتھ مفاہمتی معاہدہ طے پایا جبکہ ترکیہ کی آئینی عدالت سے معاہدہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے نیا ادارہ جاتی طریقہ کارمتعارف کرانے کے ساتھ سپریم کورٹ نے رواں سال 27ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا ہے پرانے سزائے موت اورعمر قید کے کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ اب عدالت میں 2025تک کے نئے مقدمات زیر سماعت ہیں، عوامی سہولت کیلئے آن لائن فیڈ بیک سسٹم قائم کیا گیا ہے، اینٹی کرپشن ہاٹ لائن اور کال سنٹر کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک افغان مذاکرات کا دوسرا روز، پاکستان کا تمام دہشتگرد تنظیموں کیخلاف قابل تصدیق کارروائی پر زور پاک افغان مذاکرات کا دوسرا روز، پاکستان کا تمام دہشتگرد تنظیموں کیخلاف قابل تصدیق کارروائی پر زور افغانستان سے خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام، 25دہشتگرد ہلاک، 5جوان شہید آزاد کشمیر حکومت تبدیلی کا فیصلہ کن موڑ،پیپلز پارٹی کامطلوبہ نمبرز پورے ہونے ،30ارکان کی حمایت کا دعویٰ دراندازی کے واقعات افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں،آئی ایس پی آر ڈپٹی ڈائریکٹر چیئرمین سینیٹ چودھری ناصر رفیق کے والدِ محترم کے ایصال ثواب کیلئے ختم و قل خوانی کا انعقاد رحیم یار خان، زیادتی کا شکار لڑکی مقدمہ درج ناہونے پر 100فٹ اونچی ٹینکی پر چڑھ گئی، خودکشی کی دھمکیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔