بھارت سے 5 سال بعد پہلی براہ راست پرواز چین پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
5 سال بعد بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ پیر کے روز بھارت کی نجی ایئرلائن انڈی گو کی پہلی پرواز کولکتہ سے چین کے جنوبی شہر گوانگزو پہنچی، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان معطل فضائی رابطے بحال ہوگئے۔
پرواز نمبر 6E1703 صبح 4 بجے کے قریب گوانگزو ایئرپورٹ پر اتری۔ یہ فضائی سروس 2020 میں کووڈ وبا اور اس کے بعد پیدا ہونے والی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث معطل کی گئی تھی۔
بھارت اور چین، جو دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں، تاہم 2020 میں لداخ کی سرحد پر ہونے والی جھڑپ کے بعد دونوں کے تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔ بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ پروازوں کی بحالی سے عوامی روابط کو فروغ اور دو طرفہ تعلقات کی بتدریج بحالی میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات بھارت سے دوستی کی قیمت پر نہیں، مارکو روبیو
بھارت اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بہتری اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کے ساتھ نئی دہلی کے تجارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 50 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان کے مشیروں نے الزام لگایا ہے کہ بھارت روسی تیل خرید کر یوکرین جنگ کو تقویت دے رہا ہے۔
بھارت سے ہانگ کانگ کے لیے پروازیں پہلے ہی معمول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ نومبر میں نئی دہلی سے شنگھائی اور گوانگزو کے لیے مزید براہِ راست پروازیں شروع کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا پرواز جہاز چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا پرواز جہاز چین
پڑھیں:
نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
یورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس—فائل فوٹویورپی یونین کی نمائندہ کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں۔
یورپی یونین کا وفد پاکستان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے ملاقات کرے گا۔
کایا کالاس نے پاکستان پہنچنے کے بعد اسلام آباد سے ایک انسٹا اسٹوری شیئر کی ہے۔
انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں لکھا ہے کہ میں آج اسلام آباد میں ہوں۔
یورپی یونین کی نمائندہ نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان ایک بڑی علاقائی طاقت ہے اور یورپی یونین کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔
انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے اہم موقع پر ہوا ہے جب دنیا اور اس خطے نے گہری تبدیلیوں کا تجربہ کیا ہے۔