جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے 77 سال، یومِ سیاہ آج دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے 77 سال مکمل ہونے پر آج پاکستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں یومِ سیاہ بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔کشمیری شہداء کی یاد میں صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق دن کی شروعات کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی سے ہوئی، جب کہ مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں، یکجہتی واکس، سیمینارز اور تصویری نمائشوں کا انعقاد کیا گیا تاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جا سکے۔
اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک مرکزی یکجہتی واک نکالی گئی، جس میں سرکاری اداروں، طلبہ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شاہراہِ دستور، پارلیمنٹ ہاؤس اور ڈی چوک کو “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعروں اور بینرز سے سجا دیا گیا۔
وفاقی حکومت کی زیرِ نگرانی کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم بھی جاری ہے، جس میں وزارتِ اطلاعات، وزارتِ خارجہ، پی ٹی اے اور اسلام آباد پولیس سمیت مختلف ادار متحرک ہیں۔
ملک کے دیگر بڑے شہروں — کراچی، لاہور، پشاور، مظفرآباد اور گلگت — میں بھی یومِ سیاہ کے موقع پر احتجاجی واکس اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا، جہاں مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو اُن کا حقِ خودارادیت دلانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔
تعلیمی اداروں میں بھی خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں طلبہ نے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آزادی کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا۔
آج کا دن پوری قوم کے لیے اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑا ہے — ایمان، عزم اور حوصلے کے اسی رشتے کے ساتھ جو سات دہائیوں سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔