78 برسوں سے ظلم و ستم کے شکار کشمیری انصاف کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
5 اگست 2019ء کو نریندر مودی کی حکومت نے آرٹیکل 370 منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جس سے کشمیری عوام مزید سیاسی، معاشی اور سماجی استحصال کا شکار ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو 78 سال مکمل ہو گئے، ہر سال 27 اکتوبر کو کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی برادری کو ہندوستان کے ظلم و جبر سے آگاہ کیا جا سکے۔ تاریخی حقائق کے مطابق 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج نے بغیر کسی آئینی و اخلاقی جواز کے کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا، تقسیم ہند کے وقت کشمیر کی مقامی قیادت نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا تاہم مہاراجہ ہری سنگھ نے فوجی مدد کے بدلے بھارت سے غیر قانونی الحاق کیا۔ آج تک بھارت نے مسلم اکثریتی کشمیر میں دس لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں جبکہ مقبوضہ وادی کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں، 5 اگست 2019ء کو نریندر مودی کی حکومت نے آرٹیکل 370 منسوخ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جس سے کشمیری عوام مزید سیاسی، معاشی اور سماجی استحصال کا شکار ہو گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارتی فوج دو لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم اور ہزاروں خواتین زیادتی کا شکار ہوئیں، ایک لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افراد گرفتار اور بیشتر املاک نذرِ آتش کی جا چکی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی براہِ راست ملوث ہے جبکہ جینوسائیڈ واچ نے دنیا کو خبردار کیا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فروری 2023ء میں رپورٹ کیا کہ بھارت نے مسلم اکثریتی علاقوں کو مسمار کر کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کیں، اقوامِ متحدہ اب تک کشمیر سے متعلق 5 قراردادیں منظور کر چکا ہے مگر کسی پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا، 2019ء سے مقبوضہ وادی میں دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندش جاری ہے جو بھارتی جبر کی ایک اور مثال ہے۔ پاکستان میں یومِ سیاہ منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر کے عوام آزادی، انصاف اور انسانی وقار کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور عالمی برادری کو ان کی آواز بننا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا شکار
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔