آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے بندے پورے کر لیے، سردار تنویر الیاس
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما سردار تنویر الیاس نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے بندے پورے کر لیے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے لیے جتنے بندے چاہئیں ہوں گے انشااللہ اتنے بندے ہوں گے، تحریک عدم پیش کرنے کے وقت کا فیصلہ لیڈرشپ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا حصہ نہیں بنے گی، راجہ فاروق حیدر
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آزاد کشمیر امور کی انچارج فریال تالپور نے صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود اور وزیر خزانہ عبدالماجد خان سمیت ان کے ساتھی وزرا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
بیرسٹر سلطان محمود گروپ کے ارکان اسمبلی میں سردار محمد حسین، چوہدری ارشد حسین، چوہدری محمد رشید، چوہدری محمد اخلاق، چوہدری اور یاسر سلطان شامل ہیں، جبکہ وزیر تعلیم کالجز آزاد کشمیر جو فارورڈ بلاک کا حصہ ہیں، انہوں نے بھی فریال تالپور سے ملاقات کی۔
اس کے علاوہ وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے ساتھی وزرا کے ہمراہ فریال تالپور سے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں عاصم شریف بٹ، اکبر ابراہیم اور فہیم ربانی شامل ہیں۔ ملاقات کے بعد ان 10 ارکان اسمبلی نے پیپلز پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارکان کی ایوان میں تعداد 17 ہے، جبکہ 10 نئے ارکان اسمبلی کی شمولیت کے بعد تعداد 27 ہو گئی ہے، جو سادہ اکثریت بنتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر حکومت سازی سردار تنویر الیاس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: حکومت سازی سردار تنویر الیاس پیپلز پارٹی کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔