آزادکشمیرکی سیاست میں اَپ سائیڈڈاؤن؛ بیرسٹر سلطان نےگیم چینج کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
سٹی42: آزاد کشمیر میں عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہونے والی انوار حکومت سے جان چھڑانے کے لئے پیپلز پارٹی کی کوشش کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے سیاست کا آغاز کرنے والے آزاد کشمیر کے سینئیر سیاستدان بیرسٹر سلطان محمود چوہدری بھی پیپلز پارٹی مین واپس آنے کے لئے مان گئے۔
اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی میں تعاون کرنے کے لئے پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے اہم لیڈر بیرسٹر سلطان محمود سے براہ راست رابطہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں باہمی تعاون کی بات آگے بڑھنے کا روشن امکان سامنے آگیا ہے۔ فارورڈ بلاک کے لیڈر بیرسٹر سلطان محمود نے اپنے گروپ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی ان ہاؤس تبدیلی میں معاونت کرنے کی حامی بھر لی ہے اور کہا ہے کہ سپیکر ان کے ساتھیوں میں سے بننا چاہئے۔
بیرسٹر سلطان مھمود کے ساتھ رابطہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئیر لیڈر چئیرمین بلاول کی پھپھو فریال ٹالپر نے کیا۔ ان کے ساتھ بات چیت میںبیرسٹر سلطان نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ صدر کی ملک سے باہر جانے کی صورت میں آزاد کشمیر کا سپیکر از خود قائم مقام صدر بن جاتا ہے؛ بیرسٹر سلطان محمود چاہتے ہیں کہ سپیکر ان کے گروپ سے بنوایا جائے۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا اپنے سابق رکن بیرسٹر سلطان محمود کو واپس لانے کے لئے ان کی فرمائش من و عن پوری کرنے کی طرف رجحان دکھائی دیتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری علاج کی غرض بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اور ان کی تجویز کو ماننے میں پیپلز پارٹی کا ہر طرح فائدہ ہے۔
ہنڈائی ٹکسن ہائبرڈ بغیر سود کے آسان اقساط میں حاصل کریں
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ ان کے گروپ کے ارکان بھی پیپلز پارٹی سے تعاون کریں گے تو پیپلز پارٹی کسی دوسری پارٹی کی مدد کے بغیر آزاد کشمیر کے ناپسندیدہ وزیراعظم انوار سے جان چھڑانے میں آسانی سے کامیاب ہو جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ فریال تالپور آج آزاد کشمیر اسمبلی کی جموں مہاجر نشستوں پر منتخب ہوئے ارکان اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گی۔
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں حیران کن کمی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔