جماعت اسلامی کا کراچی کے مسائل کے حل کیلیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے علاقہ سعدی ٹاؤن و کنٹونمنٹ ایریا کے تحت ممبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کی ایک حقیقت ہے اور شہر کے عوام کی خدمت کے لیے مسلسل مصروف عمل ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، ہماری جیتی ہوئی یونین کونسلز چھینی گئیں اور میئرشپ پر قبضہ کیا گیا، 173 وال والوں کو جتوادیا گیا اور 193 وال والوں کو ہرا دیا گیا۔
امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود اہل کراچی کی خدمت میں مصروف ہیں، گزشتہ دو سال کے دوران جماعت اسلامی نے 171 پارکس اور کھیلوں کے میدان بحال کیے، 42 سرکاری اسکولز کی تعمیر نو کی، لاکھوں کی تعداد میں اسٹریٹ لائٹس اور پیور بلاکس نصب کیے، آج ہر شہری جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں کیے جانے والے کاموں کا ذکر کرتا ہے، جس سے سندھ حکومت بے چینی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکمرانوں کے تعاقب اور عوام کے حقوق کے حصول کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔
منعم ظفر خان نے لاہور میں 21، 22 اور 23 اکتوبر کو مینار پاکستان کے سائے تلے ہونے والے اجتماع عام بدلو نظام کو میں عوام کو بھرپور شرکت کی دعوت دی، جماعت اسلامی کا قیام اللہ کے نظام کے قیام کے لیے ہوا ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں معیشت، سیاست، معاشرت اور اخلاقیات سمیت زندگی کے تمام شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے اہل کراچی کے بجلی، پانی، گیس، نادرا اور بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے مسائل سمیت دیگر اہم مسائل حل کیے ہیں۔
اسی موقع پر امیر ضلع ائیر پورٹ محمد اشرف نے کہا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر شدید تباہ حال ہے، ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گٹر بہہ رہے ہیں، عوام کی جان و مال محفوظ نہیں، سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں، اور شہری پانی کے بحران کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2001 سے 2005 کے دوران نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور میں بے مثال ترقیاتی کام ہوئے لیکن بعد میں شہر کی ترقی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی کے نائب صدر عمران شاہد نے بھی ممبر کنونشن سے خطاب کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔
یہ خطاب جماعت اسلامی کے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں، عوامی مسائل کے حل اور عدل کے نظام کے قیام کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کہ جماعت اسلامی مسائل کے حل نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی