پشاور: خیبر پختونخوا  ( کے پی کے ) کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو آئین اور قومی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق گورنر  کے پی کے نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسی پابندیاں نہ صرف صوبائی خودمختاری کے تصور کے خلاف ہیں بلکہ ملک کے معاشی ڈھانچے اور غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں گندم کی ترسیل پر عائد مبینہ رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، بین الصوبائی تجارت کی آزادی قومی یکجہتی اور معیشت کی بنیاد ہے اور کسی بھی صوبے کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ تجارت سے روکنا آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی ہے جو پاکستان میں آزادانہ تجارت، کاروبار اور نقل و حرکت کی ضمانت دیتا ہے۔

گورنر نے واضح کیا کہ گندم کی آزادانہ ترسیل صوبوں کے درمیان غذائی توازن اور منڈی کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے،  گندم کی خرید و فروخت پر پابندیاں کسانوں، تاجروں اور آٹے کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف صوبوں کے درمیان اعتماد میں کمی آ رہی ہے بلکہ عام شہری بھی آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور متعلقہ وفاقی اداروں کو ہدایت دیں کہ گندم کی ترسیل سے متعلق تمام رکاوٹیں دور کی جائیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے، یہاں گندم جیسی اسٹریٹجک جنس پر انتظامی قدغنیں معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہمیں ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو صوبوں کے درمیان تعاون اور اعتماد کو فروغ دیں، نہ کہ انہیں کمزور کریں۔

گورنر خیبر پختونخوا نے اپنے خط میں یہ بھی تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے جو گندم کی ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کے تعین کے معاملات پر جامع حکمتِ عملی تیار کرے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بحران سے بچا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے گورنر خیبر پختونخوا کا خط موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس معاملے پر وزارتِ خوراک اور متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت