کرم میں فتنہ الخوارج کا فوجی قافلہ پر حملہ، 6 جوان شہید، 15 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اس حملے میں دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا، جس سے پاک فوج کی کئی بکتر بند گاڑیاں اور ٹرک تباہ ہو گئے، جبکہ دھماکے کے بعد دہشتگردوں نے چاروں طرف سے پاک فوج کے قافلے کو گھیر کر اس پر فائرنگ شروع کر دی، جو تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے علاقہ وسطی کرم سلطان کلے میں ملک دشمن فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے گھات لگا کر پاک فوج کے قافلے پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 فوجی اہلکار شہید جبکہ 15 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ اس حملے میں دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا گیا، جس سے پاک فوج کی کئی بکتر بند گاڑیاں اور ٹرک تباہ ہو گئے، جبکہ دھماکے کے بعد دہشتگردوں نے چاروں طرف سے پاک فوج کے قافلے کو گھیر کر اس پر فائرنگ شروع کر دی، جو تین گھنٹے تک جاری رہی جبکہ اس دوران پاک فوج کے جوانوں کی لاشیں سڑک پر بکھری پڑی رہیں۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیرنس آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے شہداء کے نام یہ ہیں، کیپٹن نعمان، سپاہی ولید، سپاہی وقاص، سپاہی اعجاز، سپاہی نرسنگ امجد، اور نائیک ساجد۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاک فوج کے سے پاک فوج
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔